دنیا میں جہاں بیشتر پرندے اپنی خوبصورتی یا دلکش آواز کے لیے مشہور ہیں، وہیں نیو گنی میں پایا جانے والا ہوڈڈ پٹوہوئی اپنی زہریلی خصوصیات کے باعث سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا پہلا دریافت شدہ زہریلا پرندہ ہے، جس کی جلد اور پروں میں بیٹراکوٹوکسن نامی انتہائی طاقتور زہر موجود ہوتا ہے۔ یہی زہر جنوبی امریکا میں پائے جانے والے زہریلے پوائزن ڈارٹ مینڈکوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس پرندے کو ہاتھ لگانے سے جلد میں سن ہونا، جھنجھناہٹ یا بے حسی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں، اسی لیے مقامی لوگ اسے ہمیشہ احتیاط سے پکڑتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہوڈڈ پٹوہوئی خود یہ زہر پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی خوراک سے حاصل کرتا ہے۔ یہ مخصوص زہریلے بھونرے (بیٹلز) کھاتا ہے، جن سے زہر اس کے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پرندہ اس زہر کو اپنی جلد اور پروں میں محفوظ رکھتا ہے، جو شکاری جانوروں سے بچاؤ کے لیے قدرتی دفاعی نظام کا کام کرتا ہے اور اسے شکار بنانا مشکل بنا دیتا ہے۔