سولر سے بھی سستی بجلی ، وزیر توانائی نے صارفین کو بڑی خوشخبر ی سنا دی

سولر سے بھی سستی بجلی ، وزیر توانائی نے صارفین کو بڑی خوشخبر ی سنا دی

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر بجلی کے بلوں میں کمی آئی ہے، تاہم انہوں نے اس سچائی کا اعتراف بھی کیا کہ بجلی کے فکسڈ چارجز دبل کر دیے گئے ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے سبسڈی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک مزید کمی کرتے رہیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی خبریں حقائق کے برعکس ہیں ،وزیر توانائی

انہوں نے عوام کو ایک بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں دوپہر کے اوقات میں سولر سے بھی کم نرخ پر بجلی فروخت کی جائے گی۔

مفتاح اسماعیل کے بیان پر کڑی تنقید

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے حالیہ بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو وہ 18000 میگاواٹ بجلی خریدنے جا رہے تھے، جبکہ موجودہ حکومت صرف 9000 میگاواٹ بجلی خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تمام تر تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پتہ نہیں مفتاح اسماعیل 26000 میگاواٹ کے اعداد و شمار کہاں سے لے کر آگئے‘۔ وزیر توانائی نے وضاحت کی کہ مفتاح اسماعیل جس اعداد و شمار کا ذکر کر رہے ہیں، اس میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے اور نیٹ میٹرنگ پر حکومت کسی قسم کی کیپسٹی پیمنٹ ادا نہیں کر رہی ہے۔

بجلی کے استعمال میں اضافہ

وفاقی وزیر نے بجلی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جولائی 2025 سے لے کر اب تک ملک میں بجلی کے استعمال میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ کے دوران بھی بجلی کی کھپت تقریباً 7 سے 9 فیصد بڑھی ہے۔

انہوں نے چیلنج کیا کہ بجلی کے استعمال میں اس اضافے کی تصدیق نیپرا کی ویب سائٹ پر موجود معلومات سے کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو انہوں نے 9000 میگاواٹ کے منصوبوں کو فائل سے باہر نکالا  اب جو باقی 9000 میگاواٹ بجلی خریدنے کا منصوبہ ہے، اس میں داسو اور بھاشا ڈیم کے منصوبے شامل ہیں، جبکہ اس 9000 میگاواٹ میں 1200 میگاواٹ کا نیوکلیئر پلانٹ بھی شامل ہے۔

پاورڈویژن کےاخراجات آدھے کر دیے گئے

پاور سیکٹر میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے اویس لغاری نے بتایا کہ انہوں نے پاور ڈویژن کے اخراجات کو آدھا کر دیا ہے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات میں نمایاں کمی کی ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے اس سال 300 ارب روپے تک لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ٹیکس پیئرز کا پیسہ فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا جسے اب آدھا کر دیا گیا ہے۔

سبسڈی ملتی رہی تو 5 سے 6 روپے بجلی سستی کریں گے

اگر سبسڈی ملتی رہی تو وہ 4، 5 سے 6 روپے تک بجلی مزید سستی کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سخت اقدامات کی بدولت انہوں نے ٹیکس پیئرز کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔

پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے شدید بحران کا شکار ہے، جہاں گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) اور بجلی کی پے در پے بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام اور صنعتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطالبات اور بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو دی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس (استعمال کیے بغیر بجلی کے کارخانوں کو دی جانے والی رقم) کی وجہ سے حکومت کو اکثر و بیشتر بنیادی ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سولر صارفین کی سنی گئی، وزیر توانائی اویس لغاری نے اہم اعلان کر دیا

حالیہ مہینوں میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور موجودہ وزارت توانائی کے درمیان نئے بجلی کے منصوبوں اور معاہدوں کے حوالے سے شدید لفظی جنگ جاری ہے۔

مفتاح اسماعیل کا مؤقف رہا ہے کہ حکومت ضرورت سے زیادہ بجلی کے معاہدے کر کے ملک پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ناگزیر اور سستے منصوبوں (جیسے ہائیڈل اور نیوکلیئر) کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں تھرمل (مہنگی) بجلی پر انحصار کم کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا یہ بیان جہاں حکومت کی کارکردگی کو نمایاں کرنے کی کوشش ہے، وہاں اس میں کچھ اہم معاشی اور تکنیکی حقائق بھی پوشیدہ ہیں

فکسڈ چارجز کا اعتراف اور عوامی دباؤ

وزیر توانائی کا یہ اعتراف کہ فکسڈ چارجز دبل ہوئے ہیں، اس عوامی غصے کی تصدیق کرتا ہے جو صارفین کو کم بجلی استعمال کرنے کے باوجود بھاری بلوں کی صورت میں جھیلنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے یونٹ کی قیمت بظاہر کم دکھانے کے لیے فکسڈ چارجز کا سہارا لیا ہے۔

سبسڈی پر انحصار

وزیر توانائی کا یہ کہنا کہ ’اگر سبسڈی ملتی رہے گی تو قیمت کم کرتا رہوں گا‘، یہ ظاہر کرتا ہے کہ بجلی کے شعبے میں سٹرکچرل اصلاحات اب بھی کمزور ہیں اور قیمتوں میں کمی کا دارومدار مستقل سستے نرخوں پر نہیں بلکہ حکومتی بیساکھیوں (سبسڈی) پر ہے۔

سولر بمقابلہ گرڈ بجلی

 دوپہر کے وقت سولر سے بھی سستی بجلی بیچنے کا دعویٰ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دن کے وقت نیٹ میٹرنگ اور سولرائزیشن کی وجہ سے گرڈ پر بوجھ کم ہوتا ہے اور حکومت کے پاس اضافی بجلی بچ جاتی ہے۔ تاہم، چیلنج یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس اس سستی بجلی کو صارفین تک منتقل کرنے کا کوئی ٹھوس فریم ورک موجود ہے؟

اخراجات اور نقصانات میں کمی

 ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب سے 300 ارب روپے تک لانے کا ہدف انتہائی مثبت ہے، لیکن پاکستان میں بجلی چوری اور لائن لاسز کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔ اگر حکومت 600 ارب روپے بچانے میں کامیاب رہی ہے، تو یہ معیشت کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔

editor

Related Articles