پنجاب حکومت نے شہریوں کو پینے کا صاف پانی گھروں تک پہنچانے کے لیے ایک بڑے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متعلقہ حکام سے اس منصوبے کا جامع اور قابلِ عمل پلان 5 روز میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پنجاب صاف پانی اتھارٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو منظم (ری اسٹرکچر) اور تکنیکی و انتظامی طور پر مزید بااختیار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صاف پانی اتھارٹی کو جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ضروری ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی، جبکہ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق آر او پلانٹس اور جدید فلٹریشن سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔
منصوبے کے تحت تمام فلٹریشن پلانٹس پر شناختی معلومات، آپریٹر کا نام، رابطہ نمبر اور اوقاتِ کار بھی درج کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولت اور شفاف معلومات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنسی خدمات حاصل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ جاپان اور چین کی جدید واٹر فلٹریشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی کہ پنجاب صاف پانی اتھارٹی کا دائرۂ کار تمام اضلاع اور تحصیلوں تک بڑھایا جائے اور ضرورت کے مطابق مزید فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری صاف پانی کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دور دراز علاقوں میں موبائل واٹر بوٹلنگ پلانٹس کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی کا آغاز کیا جا چکا ہے، جس سے روزانہ 2 ہزار 400 سے زائد خاندان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو محفوظ اور معیاری پینے کا پانی فراہم کرنا اور صوبے بھر میں صاف پانی کی سہولت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔