پاکستان نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ، جامع اور صنفی مساوات پر مبنی استعمال کو فروغ دینے کے لیے یو این ویمن جینڈر ریسپانسیو اے آئی اسکول پاکستان کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
یہ منصوبہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن یو این ویمن پاکستان اور کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد پالیسی سازوں، سرکاری اداروں، ارکانِ پارلیمنٹ، اقوام متحدہ کے اداروں، جامعات، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹی رہنماؤں کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت فراہم کرنا ہے۔
اس تربیتی پروگرام میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات کے ساتھ ساتھ عملی مہارتوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔ نصاب میں اے آئی کے بنیادی اصول، اخلاقی اور جینڈر ریسپانسیو اے آئی، اے آئی گورننس، پرامپٹ انجینئرنگ، اے آئی ایجنٹس، پبلک ایڈمنسٹریشن اور جامع ترقی کے لیے اے آئی کے استعمال جیسے موضوعات شامل ہیں۔
اسکول کے باضابطہ افتتاح سے قبل مختلف سرکاری افسران، ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ کے عملے، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے لیے تربیتی سیشنز بھی منعقد کیے جا چکے ہیں، تاکہ ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال سے متعلق ماہر افراد کا ایک مضبوط نیٹ ورک تشکیل دیا جا سکے۔
منتظمین کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں یو این ویمن اے آئی اسکول کے تحت مکمل قومی ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام منعقد کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2024 سے اب تک ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں اس پروگرام کے ذریعے 5 ہزار سے زائد پالیسی سازوں، اقوام متحدہ کے اہلکاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور نوجوان اختراع کاروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔
یو این ویمن پاکستان کے کنٹری نمائندے جمشید ایم کازی نے کہا کہ پاکستان کا پروگرام خطے کا پہلا منصوبہ ہے جو حکومت کے انتظامی، قانون ساز اور عدالتی شعبوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے لیے بھی قومی سطح پر تربیتی راستے فراہم کرتا ہے۔
یو این ویمن کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 140 قومی اے آئی پالیسیوں میں سے صرف دو درجن کے قریب ایسی ہیں جن میں صنفی مساوات کا واضح ذکر موجود ہے۔اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے اس منصوبے کا مقصد اے آئی پالیسی، گورننس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں خواتین اور لڑکیوں کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ وہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا فعال حصہ بن سکیں۔
پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی میں بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے دوران صنفی مساوات کو مدنظر رکھنے اور پسماندہ خواتین اور خصوصی افراد کے لیے خصوصی مہارتی پروگرام متعارف کرانے پر زور دیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب کے دوران وزارتِ آئی ٹی اور یو این ویمن پاکستان کے درمیان یادداشتِ مفاہمت پر دستخط بھی کیے گئے، جس کے تحت اس پروگرام کو مستقل قومی سطح پر نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ہر شعبے کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ خواتین اور لڑکیاں بھی ڈیجیٹل معیشت میں بھرپور کردار ادا کریں۔
دوسری جانب کوئیکا پاکستان کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر سوڈام بیک نے کہا کہ یہ منصوبہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں اور ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ تقریب میں ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام کے نتائج بھی پیش کیے گئے، جن میں گورننس، پارلیمانی تحقیق، تعلیم اور کمیونٹی کی سطح پر مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کی مثالیں شامل تھیں۔