14 لاکھ سال پرانے قدموں کے نشانات نے انسانی ارتقا سے متعلق نئی حقیقت آشکار

14 لاکھ سال پرانے قدموں کے نشانات نے انسانی ارتقا سے متعلق نئی حقیقت آشکار

کینیا میں دریافت ہونے والے تقریباً 14 لاکھ 30 ہزار سال پرانے قدموں کے نشانات نے انسانی ارتقا سے تعلق رکھنے والی معدوم نسل پیرانتھروپس بوائیزیکے جسمانی ڈھانچے، طرزِ زندگی اور سماجی رویوں سے متعلق نئی معلومات فراہم کی ہیں۔

ماہرین نے شمالی کینیا میں جھیل ترکانا کے مشرقی کنارے پر کیچڑ میں محفوظ 21 قدموں کے نشانات دریافت کیے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ نشانات غالباً آٹھ افراد نے چھوڑے تھے، جن میں زیادہ تر بالغ مرد شامل تھے اور امکان ہے کہ وہ ایک گروہ کی صورت میں سفر کر رہے تھے۔

سائنسدانوں نے قدموں کی ساخت، سائز اور چلنے کے انداز کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انہیں معدوم انسانی نسل پیرانتھروپس بوائیزی سے منسوب کیا، جو انسانی ارتقائی تاریخ کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ریچھ صرف شکار نہیں کرتے، قدرتی مناظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں؟

تحقیق کے مرکزی مصنف اور ماہر بشریات کیون ہٹالا کے مطابق یہ دریافت اس قدیم نسل کی جسمانی ساخت، نقل و حرکت، باہمی تعلقات اور اپنے ماحول کے ساتھ تعامل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی۔

ماہرین کے مطابق پیرانتھروپس بوائیزی اپنی مضبوط کھوپڑی، بڑے جبڑوں اور انسانوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑے داڑھ کے دانتوں کی وجہ سے مشہور تھی۔ اس کی خوراک میں سخت گھاس، دلدلی پودے، گریاں اور مختلف اقسام کے بیج شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں :پہلے مرغی آئی یا انڈا؟ سائنسدانوں نے دلچسپ جواب دے دیا

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نسل کے بعض افراد کا قد تقریباً چھ فٹ (1.83 میٹر) اور وزن 75 کلوگرام تک ہو سکتا تھا، جو ماضی کے اندازوں سے زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جسامت قدیم انسانی نسل ہومو ایریکٹس  کے برابر ہو سکتی تھی۔

ماہرین کے مطابق قدموں کے نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ افراد جھیل کے کنارے نسبتاً گہرے پانی کی طرف جا رہے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ خوراک یا پانی کی تلاش، علاقے کی نگرانی یا اجتماعی سفر کے مقصد سے ایک ساتھ حرکت کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:خلائی مخلوق جیسے نظر آنے والے فوسلز کی اصل حقیقت سامنے آگئی

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر ارتقا نیل روچ کے مطابق ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ صرف نر افراد کا گروہ تھا، جیسا کہ آج کل گوریلوں میں دیکھا جاتا ہے، جہاں بالغ نر ایک مخصوص سماجی نظام کے تحت گروہوں میں رہتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پیرانتھروپس بوائیزی تقریباً 23 لاکھ سال قبل زمین پر نمودار ہوئی اور تقریباً 12 لاکھ سال قبل معدوم ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، خوراک کی کمی اور ہومو ایریکٹس کے ساتھ وسائل پر مقابلہ اس نسل کے خاتمے کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انسانی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے اور قدیم انسانی نسلوں کے طرزِ زندگی پر مزید تحقیق کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔

editor

Related Articles