کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ نے بڑے پیمانے پر قدرتی ماحول کو نقصان پہنچایا ہے، سپارکو نے اس تباہی کی مزید تفصیل جاری کی ہے ۔
سپارکو نے سیٹلائٹ تصاویر سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق آگ کے باعث 8 ہزار ایکڑ سے زائد جنگلات، جھاڑیاں اور گھاس کے میدان متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر آگ اب بھی پھیل رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق کوٹلی ستیاں کا علاقہ ماحولیاتی اعتبار سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، مری اور کوٹلی ستیاں کا خطہ چیڑ (Chir Pine) کے گھنے جنگلات، کھڑی پہاڑی ڈھلوانوں اور دریائے سندھ و جہلم کے آبی نظام سے جڑے ذیلی واٹرشیڈز پر مشتمل ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 9 مئی 2026 اور 29 مئی 2026 کی تصاویر کے موازنے میں جنگلاتی آگ کے وسیع اثرات سامنے آئے ہیں ، پنجاب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام کوٹلی ستیاں کے جنگلات کا مجموعی رقبہ تقریباً 27 ہزار 653 ایکڑ ہے، جن میں سے اندازاً 3 ہزار 326 ہیکٹر (8 ہزار 219 ایکڑ) قدرتی جنگلات، جھاڑیوں اور گھاس کے علاقوں کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ کے اثرات 27 مختلف مقامات پر دیکھے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر علاقے کوٹلی ستیاں اور اس کے ملحقہ علاقوں میں واقع ہیں ، تیز گرم ہواؤں کے باعث کئی مقامات پر آگ تیزی سے پھیل رہی ہے، جس سے مزید علاقوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاہم بعض علاقوں میں مقامی افراد اور محکمہ جنگلات کے عملے نے آگ پر قابو پا لیا ہے، ان مقامات پر جلے ہوئے نشانات سیٹلائٹ تصاویر میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی جنگلاتی آگ نہ صرف درختوں اور نباتات کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پرندوں اور جنگلی حیات کے افزائش نسل کے موسم کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ نئی پنیری اور ننھے پودوں کی افزائش کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے جبکہ آگ برداشت کرنے والی جارحانہ گھاس اور جھاڑیوں کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آگ پر مکمل قابو نہ پایا گیا تو خطے کے قدرتی ماحولیاتی نظام، حیاتیاتی تنوع اور آبی وسائل پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پنجاب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور سپارکو کی ان جنگلات کے حوالے سے مزید تفصیل اور معلومات جاننے کیلئے ویب سائٹ کا وزٹ کریں ۔