ملک میں کروڑوں کم آمدنی والے موبائل صارفین کے لیے ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں 2G فیچر فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ سے متعلق مجوزہ حکومتی پالیسی پر صنعت سے وابستہ حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منسلک ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ایسی تجویز زیر غور ہے جس کے تحت 2G فیچر فونز کی مقامی تیاری کو مرحلہ وار محدود یا مکمل طور پر ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کو ملک میں سستے موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس تجویز پر موبائل فون مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور صنعت سے وابستہ اداروں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف مقامی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے بلکہ لاکھوں کم آمدنی والے صارفین بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے کلاز 7.1 کے تحت 2G فیچر فونز کی پیداوار محدود کرنے کی تجویز زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اب بھی ایک بڑی آبادی ایسے موبائل فونز استعمال کرتی ہے جو بنیادی مواصلاتی ضروریات کے لیے 2G فیچر فونز پر انحصار کرتی ہے۔ اس لیے ایسی کسی بھی پالیسی تبدیلی سے براہ راست کروڑوں صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔
صنعتی حلقوں کے مطابق اگر یہ پالیسی نافذ کی گئی تو نہ صرف مقامی مینوفیکچرنگ یونٹس پر دباؤ بڑھے گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مزید یہ کہ سستے موبائل فون کی دستیابی محدود ہونے سے ڈیجیٹل رسائی کے فرق میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی سطح پر اس معاملے پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، جبکہ متعلقہ ادارے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی پالیسی پر عمل درآمد سے قبل کم آمدنی والے طبقے اور مقامی صنعت کے اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔