ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ اور ان کے والدین کے لیے اہم عوامی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی یونیورسٹی یا تعلیمی پروگرام میں داخلہ لینے سے قبل اس کی منظوری، ایکریڈیٹیشن اور تدریسی طریقہ کار کی مکمل تصدیق ضرور کی جائے۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ طلبہ بیرونِ ملک کسی بھی جامعہ میں داخلے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ متعلقہ پروگرام آن کیمپس، آن لائن یا بلینڈڈ لرننگ سمیت جس بھی طریقہ تعلیم کے تحت پیش کیا جا رہا ہے وہ متعلقہ ملک کے مجاز ریگولیٹری ادارے یا ایکریڈیٹیشن اتھارٹی سے باقاعدہ منظور شدہ ہو۔
کمیشن نے واضح کیا کہ بعض پروگراموں میں جسمانی حاضری خصوص مدت تک رہائش یا دیگر تعلیمی شرائط لازمی ہوتی ہیں اس لیے طلبہ کو داخلہ لینے سے قبل تمام ضوابط اور تقاضوں کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ ایچ ای سی کے مطابق غیر ملکی ڈگریوں کی مساوی کے لیے موصول ہونے والی ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے جس میں جامعہ کی قانونی حیثیت، پروگرام کی منظوری، تعلیم کے طریقہ کار، دورانیے اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی معائنہ شامل ہوتا ہے۔
ایڈوائزری میں طلبہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ مناسب تحقیق اور تصدیق کے بغیر کسی غیر ملکی پروگرام میں داخلہ لینے کی صورت میں مستقبل میں ڈگری کی مساوی، شناخت یا پیشہ ورانہ استعمال کے حوالے سے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اسی لیے داخلے سے قبل جامعہ اور پروگرام سے متعلق تمام معلومات حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ایچ ای سی نے مزید بتایا کہ غیر ملکی ڈگریوں کی مساوی کے لیے درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ مقررہ قواعد و ضوابط اور انفرادی میرٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ کمیشن نے طلبہ اور والدین پر زور دیا کہ وہ کسی بھی تعلیمی فیصلے سے قبل تمام ضروری معلومات اور دستاویزات کی تصدیق کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔