بنگلہ دیش میں ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ نامی ایک بھینسا غیر معمولی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جسے دیکھنے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ دارالحکومت ڈھاکہ کے چڑیا گھر کا رخ کر رہے ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق اس بھینسے کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربان کیا جانا تھا، تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکام نے اسے چڑیا گھر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد سے یہ جانور سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔
ڈھاکہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم محمد نسیم کا کہنا ہے کہ بھینسے کی آنکھیں، بالوں کا انداز اور جلد کا رنگ کسی حد تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق چڑیا گھر میں ابتدائی طور پر بھینسے کے پنجرے کے باہر ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ کے نام کی تختی بھی آویزاں کی گئی تھی، تاہم بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ اسی دوران چڑیا گھر کے کیوریٹر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا، اگرچہ اس فیصلے کی سرکاری وجہ سامنے نہیں آسکی۔
ڈھاکہ کے رہائشی محمد جوینال عدیدین نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک فارم کے جانور کو دنیا کی بااثر سیاسی شخصیات میں سے ایک کے نام سے منسوب کرنا مناسب اقدام نہیں تھا اور اسے بعض لوگ توہین کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق بھینسے کی قربانی کے لیے خریدا جا چکا تھا، تاہم وزیر داخلہ صلاح الدین احمد کی ہدایت پر پولیس نے جانور کو تحویل میں لے لیا، جس کے بعد خریدار کو اس کی رقم واپس کر دی گئی۔
جنوب مغربی شہر جاشور سے چڑیا گھر آنے والے محمد حبیب الرحمان نے بتایا کہ وہ عید سے قبل فیس بک پر اس بھینسے کے بارے میں پوسٹس دیکھتے رہے تھے۔ بعد ازاں جب معلوم ہوا کہ اسے قربان کرنے کے بجائے چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے خود آ کر اسے دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا، ’میں صرف ‘ڈونلڈ ٹرمپ’ کو دیکھنے کے لیے چڑیا گھر آیا ہوں۔‘