ڈاکٹر ماہ نور کے متاثرہ جسمانی حصوں سے مُردہ جلد نکالنے کا عمل جاری

ڈاکٹر ماہ نور کے متاثرہ جسمانی حصوں سے مُردہ جلد نکالنے کا عمل جاری

کوئٹہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور کی صحت کے حوالے سے حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ڈاکٹر ماہ نور کی حالت اب پہلے سے بہتر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے جبکہ انہوں نے اپنے اہل خانہ سے گفتگو بھی کی ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کو تیزاب حملے کے بعد تشویشناک حالت میں کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جسم کے متاثرہ حصوں پر موجود جلنے کے زخم سطحی نوعیت کے ہیں اور متاثرہ جلد کو ہٹانے کا عمل جاری ہے تاکہ علاج کے اگلے مراحل مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی جلد کی پیوند کاری (گرافٹنگ) سے متعلق سرجریز مرحلہ وار کی جا رہی ہیں جبکہ ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاج کا عمل طویل ہو سکتا ہے تاہم مریضہ کی حالت میں بتدریج بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین کیلئےبڑی خوشخبری، فی یونٹ بڑی کمی کر دی گئی،نوٹفکیشن جاری

دوسری جانب اس افسوسناک واقعے نے ملک بھر میں تیزاب گردی جیسے سنگین جرائم کے خلاف قانون سازی کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہوئے کرمنل لا ترمیمی بل 2026 قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔

مجوزہ بل کے تحت پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336 بی میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق تیزاب گردی کے جرم میں سزائے موت کو بھی ممکنہ سزا کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ موجودہ سزائیں جن میں عمر قید، کم از کم 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ شامل ہیں برقرار رکھی جائیں۔ بل کے متن میں تیزاب گردی کو ایک ناقابلِ معافی سفاک اور انسانیت سوز جرم قرار دیا گیا ہے۔

editor

Related Articles