وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے پنشن میں 7 فیصد اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے آفس میمورنڈم کے مطابق پنشن میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اطلاق تمام وفاقی سول پنشنرز پر ہوگا، جن میں وہ ریٹائرڈ ملازمین بھی شامل ہیں جن کی پنشن ڈیفنس ایسٹیمیٹس سے ادا کی جاتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ اہلکار بھی اس اضافے کے مستحق ہوں گے، جبکہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین بھی اس فیصلے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ مختلف کیٹیگریز کی فیملی پنشن پر بھی لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ غیر معمولی پنشن (ایکسٹرا آرڈینری پنشن) اور ہمدردانہ الاؤنسز پر بھی یہی اضافہ نافذ ہوگا، جس سے پنشنرز کی مختلف اقسام کو یکساں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی پنشن کی ادائیگی وفاقی حکومت اور کسی دوسرے سرکاری ادارے کے درمیان موجودہ مالیاتی قواعد کے تحت مشترکہ طور پر کی جا رہی ہے تو پنشن میں اضافے کے نتیجے میں آنے والا اضافی مالی بوجھ بھی دونوں ادارے اپنے اپنے مقررہ حصے کے مطابق برداشت کریں گے۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اطلاق بعض مخصوص اضافی پنشن فوائد پر نہیں ہوگا۔ ان میں ریٹائرمنٹ سے قبل دیا جانے والا آرڈرلی الاؤنس یا ڈرائیور و آرڈرلی کی سہولت کے بدلے دی جانے والی مانیٹرائزڈ ویلیو شامل ہے، جو اس اضافے کے دائرہ کار سے مستثنیٰ رہے گی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پنشن میں اضافے کی منظوری کا باضابطہ عمل مکمل ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 7 فیصد اضافی پنشن یکم جولائی 2026 سے قابلِ اطلاق ہوگی، جس کا مقصد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دباؤ کے تناظر میں مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔