امریکا ایران مفاہمت میں پاکستان کا تاریخی کردار، صدر زرداری کی وزیرِاعظم و فیلڈ مارشل کی کاوشوں کی تعریف

امریکا ایران مفاہمت میں پاکستان کا تاریخی کردار، صدر زرداری کی وزیرِاعظم و فیلڈ مارشل کی کاوشوں کی تعریف

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیر مقدم کیا ہے اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار اور کاوشوں کو سراہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت کو خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ نہیں بلکہ امن ہی ترقی کا واحد راستہ ہے، تنازع سے خطے اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، انہیں امید ہے ایسی المناک صورتِ حال دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہو گی، خطے کے ممالک اب اپنی توانائیاں ترقی اور خوش حالی کے لیے وقف کریں گے۔

صدر مملکت نے وزیرِ اعظم شہبازشریف ، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی سفارتی کاوشوں نے فریقین کو معاہدے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے پورے بحران کے دوران ایک اصولی، متوازن اور تعمیری کردار ادا کیا۔

صدرِ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان نے مذاکرات، تحمل اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے فریقوں سے رابطے برقرار رکھے۔

صدر آصف زرداری  نے تنازع کے سفارتی حل کو یقینی بنانے میں امریکی اور ایرانی قیادت کے کردار کو بھی سراہا اور تمام فریقین پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کرنے پر زور دیا۔

صدرِ پاکستان نے کہا  کہ مقررہ مدت کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو تیز کریں، ہیرو وہ ہیں جنہوں نے جنگ ختم کی، نہ کہ وہ جو جنگ شروع کرنے کے خواہاں تھے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ اور ایرانی صدر نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دئیے ،معاہدہ نافذ العمل ہو گیا

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے صدور نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث دستخط ثبت کیے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اتوار کو معاہدے طے پایا تھا جس پر جمعے کو جنیوا میں دستخط کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ پاکستان کی جانب سے اس سے قبل الیکٹرانک دستخط کا انتظام کیا گیا تھا ،  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخط کی باضابطہ تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

خیال رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے جنگ بندی اور اب معاہدے تک پہنچنے کے کوششوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور معاہدہ طے پانے کا اعلان بھی وزیراعظم شہباز شریف نے 14 جون کو خود کیا تھا۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے اثرات پورے خطے کے علاوہ دنیا بھر پر اس طرح سے پڑے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور اس کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا جبکہ خلیجی ممالک بھی حملوں کا نشانہ بنے۔

یہ بھی پڑھیں : حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے ایران، امریکہ مذاکرات کے نئے دور کا جمعے سے آغاز ہوگا، عباس عراقچی

جنگ کے ساتھ ہی ثالثی کے لیے متحرک ہونے والا پاکستان پانچ ہفتے بعد دونوں ممالک میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا، جس میں بعدازاں توسیع ہوئی ، مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہوا تاہم دوسرا نہ ہو پانے کے باوجود بھی ثالثی کی کوششیں جاری رکھی گئیں اوریہ معاملہ امن معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

editor

Related Articles