ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ کے چوتھے اور انتہائی اہم مرحلے میں شرکت کے لیے پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم لندن پہنچ چکی ہے۔
قومی اسکواڈ کے لیے ایک بڑی اور مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ٹیم کے ہیڈ کوچ منظور الحسن کو برطانوی سفارت خانے کی جانب سے ویزہ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ بھی ٹیم کے ہمراہ لندن روانہ ہوئے اور اب اسکواڈ کو جوائن کر کے کھلاڑیوں کی تربیت اور حکمتِ عملی سنبھال چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیڈ کوچ کی بروقت موجودگی سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور ٹیم انتظامیہ لندن کے کٹھن دورے میں نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔
انگلینڈ اور روایتی حریف بھارت کے خلاف کڑے مقابلے
لندن کے اس مرحلے میں قومی ہاکی ٹیم کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ شیڈول کے مطابق پاکستان اپنے اگلے میچز میں میزبان انگلینڈ اور اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف 2، 2 مقابلے کھیلے گا۔
ہاکی کے حلقوں میں ان میچز کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مقابلے نہ صرف ایونٹ میں ٹیم کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو دباؤ کی صورتِ حال سے نکلنے کا موقع بھی فراہم کریں گے۔
روایتی حریف بھارت کے خلاف میچز ہمیشہ سے اعصاب کا امتحان ہوتے ہیں، اور شائقین کو امید ہے کہ گرین شرٹس اس بار سرپرائز دیں گے۔
مسلسل 12 ناکامیاں اور موجودہ پوزیشن
اگر ایونٹ کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو پرو ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کا اب تک کا سفر انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ پاکستان اب تک کھیلے گئے اپنے تمام 12 میچز میں مسلسل شکست کا سامنا کر چکا ہے اور پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت سب سے نچلے نمبر پر موجود ہے۔
اس سے قبل کھیلے گئے مراحل میں ٹیم کی دفاعی لائن اور پنالٹی کارنر کو گول میں تبدیل کرنے کی صلاحیت انتہائی کمزور دکھائی دی۔
تاہم مسلسل 12 شکستوں کے باوجود ٹیم انتظامیہ اور ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ ماضی کو بھلا کر اب کھلاڑیوں کی تمام تر توجہ آئندہ کے میچز میں کارکردگی کو بہتر بنانے اور پہلی فتح حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔
کیا پاکستان کم بیک کر پائے گا؟
منظور الحسن کا ٹیم کے ساتھ ہونا تکنیکی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ ویزے کے مسائل حل ہونے کے بعد اب وہ گراؤنڈ میں براہِ راست کھلاڑیوں کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکیں گے، خاص طور پر آخری کوارٹرز میں میچ پر گرفت برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی پر کام ہو گا۔
دفاعی کمزوریاں اور مڈ فیلڈ کا چیلنج
گزشتہ 12 میچز کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ٹیم میچ کے ہاف ٹائم تک اچھا مقابلہ کرتی ہے، لیکن آخری منٹس میں اعصاب پر قابو نہیں رکھ پاتی۔ انگلینڈ کی تیز رفتار ہاکی اور بھارت کے مضبوط مڈ فیلڈ کے خلاف اگر پاکستانی ڈیفنس نے دوبارہ غلطیاں کیں، تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
نفسیاتی دباؤ
مسلسل ہار کے بعد کھلاڑیوں پر نفسیاتی دباؤ بہت زیادہ ہے۔ بھارت کے خلاف میچ میں یہ دباؤ دگنا ہو جاتا ہے۔ اگر ٹیم نے پہلے میچ میں انگلینڈ کے خلاف اچھا آغاز کر دیا، تو یہ اعتماد بھارت کے خلاف میچز میں کام آ سکتا ہے۔