ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور انڈسٹری کو درپیش مالی بحران پر حکومت اور آئل انڈسٹری کے درمیان ایک ہنگامی اور اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریوں کے بڑھتے ہوئے تحفظات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اصل درآمدی پریمیم کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ ہفتہ وار قیمتوں کے موجودہ نظام میں فی الحال مزید کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
اس ہنگامی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور سیکریٹری پیٹرولیم حامد یعقوب شیخ نے کی، جس میں ملک کی تمام بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا نیا فارمولا
حکومتی حکام نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ آئندہ پیٹرول کی قیمت پاکستان اسٹیٹ آئل ’پی ایس او‘ کے تازہ ترین درآمدی کارگو پر عائد 15.85 ڈالر فی بیرل پریمیم کی بنیاد پر مقرر کی جائے گی۔
حکام کا ماننا ہے کہ حالیہ پالیسی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ مالی نقصان پی ایس او کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کا تعین بھی پی ایس او کے کویت پیٹرولیم سے حاصل کردہ درآمدی پریمیم کے مطابق جاری رکھا جائے گا، جو اس وقت تقریباً 5 سے 6 ڈالر فی بیرل ہے۔
بار بار تبدیلیاں اور اربوں روپے کے منافع کا خاتمہ
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل ‘او سی اے سی’ کے چیئرمین آصف اقبال نے حکومت کے سامنے انڈسٹری کا مقدمہ رکھتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3 ماہ کے مختصر عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں 7 مرتبہ اور پیٹرول کی قیمتوں میں 4 مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، جس نے پوری آئل انڈسٹری کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ قیمتوں میں اچانک تبدیلی نے محض 1 ہی دن میں کمپنیوں کا پورے سال کا جمع شدہ منافع ختم کر دیا ہے اور ایسی غیر یقینی صورتحال میں کسی بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اسمگل شدہ ڈیزل کا سیلاب اور ریفائنریوں کا احتجاج
سائینرجیکو پیٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو امیر عباسی نے اجلاس میں ملکی ریفائنریوں کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بھرمار کے باعث مقامی ریفائنریاں شدید دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی بقا خطرے میں ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کا مکمل ’ڈی ریگولیشن‘ (آزاد مارکیٹ نظام) کیا جائے اور اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس کے ساتھ ہی، ریفائنری نمائندوں نے حکومت کے اس فیصلے پر بھی سخت احتجاج کیا جس کے تحت اپ گریڈیشن کے لیے مختص 2.5 فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی واپس لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ اپ گریڈیشن کے معاہدوں پر ابھی تک دستخط بھی نہیں ہوئے ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کے انخلا کا خدشہ اور اوگرا پر سنگین الزامات
وافی انرجی کے چیف ایگزیکٹو زبیر شیخ نے وفاقی وزرا کو خبردار کیا کہ ان کے متحدہ عرب امارات میں موجود غیر ملکی سرمایہ کار ایک ہی رات میں ہونے والے اس بھاری نقصان پر شدید حیران ہیں۔
اگر پالیسیوں میں یہ عدم استحکام برقرار رہا تو بڑے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے اپنا سرمایہ نکالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اجلاس میں بعض کمپنی نمائندوں نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ‘اوگرا’ پر اربوں روپے روکنے کا سنگین الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا نے حکومتی فیصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے 66 ارب روپے سے زائد کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز ‘پی ڈی سی’ روک رکھے ہیں، جس سے کمپنیوں کا ورکنگ کیپیٹل ختم ہو چکا ہے۔
مزید برآں کمرشل بینک پہلے ہی اسٹیٹ بینک کی مقررہ شرح سے زیادہ فارن ایکسچینج چارجز وصول کر رہے ہیں، جس سے انڈسٹری پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ صنعت کاروں نے مطالبہ کیا کہ 19 جون کو متعارف کرائے گئے نئے فارمولے کو منسوخ کر کے جنگ سے پہلے والا پرانا قیمتوں کا نظام بحال کیا جائے۔
حکومت کا مؤقف اور مرحلہ وار ڈی ریگولیشن
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ 7 روزہ قیمتوں کا نظام فوری طور پر تبدیل نہیں ہوگا کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں صنعت کی تجاویز شامل کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مکمل ڈی ریگولیشن فوری طور پر ممکن نہیں بلکہ مرحلہ وار پیش رفت کی جائے گی، جس میں مستقبل میں ہفتہ وار نظام سے روزانہ قیمتوں کے تعین کی جانب بھی جایا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران حکام اور صنعت کاروں کے درمیان تلخی بھی دیکھی گئی۔ وزیر اور سیکریٹری پیٹرولیم نے بعض نمائندوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے سامنے حکومتی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا۔
جب کمپنیوں نے اوگرا کی قیادت کی عدم دستیابی کی شکایت کی تو وزیر پیٹرولیم نے ناراض کمپنیوں کو وزیراعظم سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
تاہم او سی اے سی کے چیئرمین آصف اقبال نے تسلیم کیا کہ اوگرا نے انہیں مختصر نوٹس پر تفصیلی مؤقف پیش کرنے کا موقع ضرور دیا تھا، اگرچہ ان کی تجاویز کو حتمی فیصلوں میں شامل نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں پیٹرولیم پرائسنگ کا بحران
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روایتی طور پر ہر 15 دن بعد کیا جاتا تھا، جسے حال ہی میں حکومت نے مارکیٹ کی لچک کے نام پر 7 روزہ (ہفتہ وار) نظام میں تبدیل کیا۔
اس کا مقصد عالمی مارکیٹ کے اثرات فوری منتقل کرنا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے انوینٹری مینجمنٹ اور مالیاتی حساب کتاب ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔
ماضی میں بھی جب حکومتوں نے سیاسی فائدے کے لیے قیمتیں منجمد کیں تو پرائس ڈیفرینشل کلیمز ‘پی ڈی سی’ کے اربوں روپے پھنس گئے، جس نے ملک میں تیل کی قلت پیدا کی تھی۔ 66 ارب روپے کے حالیہ کلیمز اسی پرانے بحران کی نئی کڑی ہیں۔