جیو نیوز انتظامیہ نے ایک پروگرام میں ہونے والی مبینہ غفلت پر عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے باقاعدہ معذرت کر لی اور اپنی نشریات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو عارضی طور پر بند کر دیا۔
پاکستان کے سب سے بڑے نجی میڈیا نیٹ ورک ‘جیو نیوز’ کے مالکان اور اعلیٰ انتظامیہ نے حالیہ پیدا ہونے والی حساس صورتحال اور عوامی جذبات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک انتہائی اہم، فوری اور ذمہ دارانہ فیصلہ کیا ہے۔
ایک حالیہ پروگرام میں ہونے والی چند افراد کی مبینہ غفلت اور غلطی کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ داؤ پر لگ گئی تھی، تاہم جیو انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف باقاعدہ معذرت کی ہے بلکہ اپنی نشریات اور تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو عارضی طور پر بند کر کے ادارہ جاتی احتساب کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔
ایک پروگرام کی غلطی اور ادارہ جاتی احتساب کا عمل
رپورٹس کے مطابق جیو نیوز کے ایک مخصوص پروگرام میں مانیٹرنگ اور ادارتی نگرانی کی مبینہ کمی کے باعث ایک سنگین غلطی سرزد ہوئی تھی، جس سے عوامی اور مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔
اس واقعے کے فوراً بعد، جیو کے مالکان نے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور فوری اصلاحی اقدامات کا آغاز کیا۔
اطلاعات ہیں کہ ادارے نے روایتی چشم پوشی کے برعکس متعلقہ پروگرام کی تیاری اور نشریات میں شامل تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی ہے، جسے میڈیا انڈسٹری میں خود احتسابی کی ایک اہم اور مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی جذبات کا احترام اور ڈیجیٹل بلیک آؤٹ
جیو انتظامیہ نے عوامی و مذہبی حساسیت کا احترام کرتے ہوئے صرف کاغذی معذرت نامے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنے عارضی ڈیجیٹل بلیک آؤٹ (بشمول یوٹیوب لائیو اور تماشا ایپ جیسی بڑی اسٹریمنگ سروسز سے علیحدگی) کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ معاملے کی حساسیت اور سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
جیو مالکان کے اس فوری ردِعمل، بروقت معذرت اور جرات مندانہ اصلاحی اقدامات کے بعد میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے ان کے اس طرزِ عمل کو داد دی جا رہی ہے۔
مستقبل کے لیے مؤثر ادارتی نگرانی کی امید
میڈیا مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے ادارے کی اصل پہچان یہ نہیں ہوتی کہ اس سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوگی، بلکہ اصل پہچان غلطی کے بعد اختیار کیے جانے والے رویے سے ہوتی ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس تلخ واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے جیو نیوز مستقبل میں اپنی ‘ایڈیٹوریل مانیٹرنگ’ اور سنسرشپ کے نظام کو مزید فول پروف اور مؤثر بنائے گا تاکہ مذہبی حساسیت، قومی اقدار اور عوامی عقائد کے حوالے سے ایسی ناخوشگوار صورتحال دوبارہ کبھی پیدا نہ ہو۔
پس منظر اور اضافی معلومات
پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں لائیو شوز یا ریکارڈڈ پروگرامز کے دوران مذہبی اور قومی حساسیت کے معاملات پر ماضی میں بھی کئی چینلز کو پیمرا کی جانب سے بھاری جرمانوں، معطلی اور عوامی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جیو نیوز کو بھی ماضی میں اس طرح کے شدید بحرانوں کا تجربہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار کسی بھی بیرونی دباؤ، قانونی کارروائی یا پیمرا کے بڑے ایکشن سے قبل ہی، جیو کے مالکان نے پروایکٹو حکمتِ عملی اپناتے ہوئے خود ہی اپنی لائیو فیڈز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا اور اندرونی اسکریننگ کا نظام فعال کر دیا تاکہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
جیو نیوز کی انتظامیہ کا یہ رویہ پاکستان کی صحافتی تاریخ میں ایک ‘رول ماڈل’ یا قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔ عام طور پر پاکستانی میڈیا میں جب بھی کسی چینل سے کوئی غلطی ہوتی ہے، تو اسے ‘آزادیٔ اظہارِ رائے پر حملہ’ قرار دے کر مظلومیت کا کارڈ کھیلا جاتا ہے یا تکنیکی خرابی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
لیکن جیو مالکان نے پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ غلطی ہوئی ہے اور اس پر پچھتاوے کا عملی اظہار بھی کیا۔
واضح رہے کہ اربوں روپے کے بزنس اور لاکھوں روزانہ کے ناظرین کو داؤ پر لگا کر اپنی نشریات کو عارضی طور پر خود بند کرنا کوئی آسان کارپوریٹ فیصلہ نہیں ہوتا۔
جیو نے مالی نقصان کو برداشت کیا لیکن عوامی اور مذہبی اقدار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ذمہ دارانہ احتساب اور بروقت معذرت کے یہ اصول اب پاکستان کے دیگر میڈیا ہاؤسز کے لیے بھی ایک گائیڈ لائن ہونے چاہئیں کہ ریٹنگ اور بریکنگ نیوز کی دوڑ میں اخلاقی اور مذہبی حدود کا خیال رکھنا سب سے مقدم ہے۔
مکمل ڈیجیٹل بلیک آؤٹ، جیو معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’تماشا‘ پر بھی بند
ادھر یوٹیوب کے بعد جیو اب معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’تماشا‘ پر بھی بند ہو گیا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے نجی ٹی وی نیٹ ورک ‘جیو نیوز’ کی جانب سے پیمرا کے حالیہ ضابطۂ اخلاق اور حکم نامے کی تائید کا اثر اب ملک کے بڑے اسٹریمنگ انفراسٹرکچر پر بھی واضح طور پر نظر آنے لگا ہے۔
یوٹیوب پر لائیو اسٹریمنگ معطل کرنے کے فوراً بعد، جیو اب پاکستان کے مقبول ترین اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز میں سے ایک، ’تماشا ایپ‘ پر بھی نشر نہیں ہو رہا۔
’تماشا‘ ایپ سے جیو کی لائیو فیڈز کا اچانک غائب ہونا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جیو انتظامیہ انٹرنیٹ اور تمام تیسرے فریق کے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے خود کو مکمل طور پر الگ کر دیا ہے۔
پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین، جو جیو نیوز کی لائیو کوریج، ٹاک شوز اور بریکنگ نیوز دیکھنے کے لیے ‘تماشا ایپ’ کا رخ کرتے تھے، اب اس اسٹریمنگ سروس پر جیو کا لوگو اور فیڈ تلاش کرنے میں ناکام ہیں۔
‘تماشا’ پر جیو کی بندش اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارم پاکستان میں لائیو ٹی وی اسٹریمنگ کی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے اور اس اقدام سے جیو کا ڈیجیٹل ناظرین کا گراف اچانک نیچے گرا ہے۔