حملہ آور گھر میں کیسے داخل ہوا؟ سیف علی خان نے پوری کہانی سنا دی

حملہ آور گھر میں کیسے داخل ہوا؟ سیف علی خان نے پوری کہانی سنا دی

بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے گزشتہ سال اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے چاقو حملے سے متعلق پہلی بار مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے اس خوفناک رات کو اپنی زندگی کا سب سے مشکل لمحہ قرار دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں سیف علی خان نے بتایا کہ حملہ آور باتھ روم کی کھڑکی توڑ کر گھر میں داخل ہوا اور سیدھا ان کے چھوٹے بیٹے جے کے کمرے تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں :مامیا شاہ جعفر کس بیماری کا شکار ہیں؟تفصیلات سامنے آگئیں

اداکار کے مطابق وہ اہل خانہ کے ساتھ آرام کر رہے تھے کہ اچانک بچوں کی آیا (نینی) گھبراہٹ میں ان کے کمرے میں آئی اور بتایا کہ جے کے کمرے میں ایک شخص چاقو لیے کھڑا ہے اور پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سیف علی خان نے بتایا کہ وہ فوراً بیٹے کے کمرے کی طرف دوڑے، جہاں حملہ آور نے بچے کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ ان کے مطابق حملہ آور نے بچے کو معمولی زخمی کیا جبکہ ملازمہ کو بھی چاقو سے ہلکا زخم آیا۔

یہ بھی پڑھیں :درفشاں سلیم نے سمر لک سے مداحوں کو کردیا متاثر، تصاویر نے توجہ سمیٹ لی

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئے، انہوں نے حملہ آور کا سامنا کیا اور دونوں کے درمیان شدید ہاتھا پائی ہوئی۔سیف علی خان کے بقول حملہ آور انتہائی مشتعل تھا اور مسلسل چاقو سے وار کر رہا تھا، جس کے باعث ہر طرف خون پھیل گیا۔ اسی دوران ایک گھریلو ملازمہ نے بروقت پہنچ کر حملہ آور کو زور سے دھکا دیا، جس سے صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملی۔

اداکار نے بتایا کہ شدید زخمی ہونے کے بعد جب انہیں اسپتال منتقل کیے جانے کا انتظار تھا تو ایک لمحے کے لیے انہیں اپنی جان جانے کا خوف محسوس ہوا۔انہوں نے کہا، ’’میں خون میں لت پت فرش پر لیٹا تھا اور میرے ذہن میں یہی خیال آ رہا تھا کہ شاید میں زندہ نہ بچ سکوں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں :شاہ رخ خان کی حاضر دماغی نے ایک بار پھر مداحوں کو متاثر کر دیا

سیف علی خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے تیمور سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے ساتھ اسپتال جانا چاہے گا، جس پر تیمور نے معصومیت سے سوال کیا، ’’کیا آپ مرنے والے ہیں؟’’ اداکار نے اسے تسلی دی کہ ایسا نہیں ہوگا، جس کے بعد دونوں ساتھ اسپتال روانہ ہوئے۔

حملہ آور کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سیف علی خان نے کہا کہ وہ اسے معاف کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں اس شخص نے ایک بہت بڑی غلطی کی، تاہم جس انداز میں اس نے ان کی جان لینے کی کوشش کی، اس واقعے کو بھلا دینا آج بھی ان کے لیے آسان نہیں۔

editor

Related Articles