پاکستان نے اسرائیل کا متنازع ’ای ون‘ آبادکاری منصوبہ مکمل مسترد کردیا

پاکستان نے اسرائیل کا متنازع ’ای ون‘ آبادکاری منصوبہ مکمل مسترد کردیا

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں انتہائی واضح، دوٹوک اور مضبوط مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کے متنازع ’ای ون‘ آبادکاری منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس اسرائیلی اقدام کو مستقبل کی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے جغرافیائی وجود کے لیے ایک سنگین اور مہلک خطرہ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی اور بھارتی ہیکرز نے جیو نیوز کی ٹرانسمیشن کو ہیک کر دیا, افواج پاکستان مخالف مواد لگا دیا

انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حالات مسلسل تشویشناک رخ اختیار کر رہے ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

مغربی کنارے کی صورتحال اور اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد

پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیلی آباد کاری کی رفتار میں مسلسل اور خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر ہولناک تشدد کے واقعات بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل کے متعدد دیگر ارکان نے بھی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسرائیل کے احتساب پر زور دیا ہے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی حرمت کو برقرار رکھا جا سکے۔

’ای ون‘ منصوبہ اور سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے سنسنی خیز اعداد و شمار

پاکستان کے مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4750 نئے اسرائیلی رہائشی یونٹس کی منظوری ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’ای ون‘ منصوبہ فلسطینی علاقوں کے باہمی جغرافیائی ربط کو مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دے گا، جس سے ’دو ریاستی حل‘ کے تمام امکانات ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔

عاصم افتخار نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے مالی وسائل اور فنڈز کی بندش پر بھی گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس ظالمانہ اقدام کا مقصد فلسطینی اداروں کو کمزور کرنا اور وہاں کے حکومتی نظام کو مفلوج کرنا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ سال ’ای ون‘ منصوبے کی باقاعدہ منظوری دی تھی، جس کے تحت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم (ایسٹ یروشلم) کے درمیان اسرائیلی آبادکاروں کے لیے 3401 نئے مکانات تعمیر کیے جانے کا منصوبہ شامل ہے۔

مزید پڑھیں:معرکہ حق قومی قوت اور اسٹریٹجک بصیرت کا ایک فیصلہ کن لمحہ تھا،عاصم افتخار

جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ مغربی کنارے کو 2 حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور سیاسی ناقدین کے مطابق اگر اس منصوبے پر مکمل عملدرآمد ہو جاتا ہے تو مستقبل میں ایک مربوط، تسلسل کے حامل اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عملی طور پر ناممکن ہو جائے گا، یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس منصوبے کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی مستقل خارجہ پالیسی

پاکستانی مندوب عاصم افتخار کا یہ خطاب ثابت کرتا ہے کہ حکومتیں بدلنے کے باوجود فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی ریاستی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان اب بھی عالمی فورمز پر فلسطینیوں کی سب سے مضبوط آوازوں میں سے ایک ہے۔

جغرافیائی تبدیلیاں اور 2 ریاستی حل کا خاتمہ

 اسرائیل کا 4750 نئے یونٹس بنانا اور ‘ای ون’ پر اصرار کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ زمین پر ایسی ناقابلِ واپسی تبدیلیاں لا رہا ہے جس کے بعد کسی بھی قسم کے امن معاہدے کی گنجائش ختم ہو جائے۔ جغرافیائی ربط کا ٹوٹنا فلسطینی اتھارٹی کو محض چھوٹے چھوٹے جزیروں تک محدود کر دے گا۔

معاشی ہتھیار کا استعمال

 فنڈز کی بندش کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی کو دیوالیہ کرنے کی اسرائیلی کوشش دراصل ایک اسمارٹ جنگ ہے، تاکہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے روٹی اور تنخواہوں کے بحران میں الجھ کر رہ جائیں۔ پاکستان نے اس معاشی ظلم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے بہترین سفارتکاری کا ثبوت دیا ہے۔

Related Articles