کٹھ پتلیاں فیل ہوئیں تو ڈوریاں ہلانے والے خود سکرین پر آ گئے! کشمیری عوام کے ہاتھوں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی شرانگیز تحریک کے عبرتناک انجام اور مکمل مسترد کیے جانے کے بعد بھارتی میڈیا اس مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لیے باقاعدہ میدان میں اتر آیا ہے۔
بھارتی گودی میڈیا نے اپنی فنڈ یافتہ اور کٹھ پتلی کالعدم انتشاری کمیٹی کی تحریک کو عوامی حمایت سے محروم ہوتا دیکھ کر ایک بار پھر پروپیگنڈا مہم تیز کر دی ہے۔
زمینی حقائق نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست دشمنی کا یہ چورن اب آزاد کشمیر میں بکنا بند ہو گیا ہے عوام کی جانب سے اس ایجنڈے کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے بعد، ریپبلک ٹی وی سمیت دیگر متنازع بھارتی چینلز نے مایوسی کے عالم میں ایک بھونڈی اور من گھڑت پراپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
جب یہ واضح ہوا کہ مذکورہ انتشاری گروہ کو آزاد کشمیر میں عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی تو بھارت کے گودی میڈیا نے اس کے حق میں من گھڑت بیانیے گھڑنا اور بے بنیاد دعوے پھیلانا شروع کر دیے۔
راولاکوٹ کی عام عوامی فوٹیج کو مسخ کر کے سکرینوں پر “‘PoK NOT PART OF PAKISTAN'” اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے نعروں کی سرخیاں چلا کر بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں تاکہ اپنی فیک نیوز اور مذموم مقاصد کو سچ کا رنگ دیا جا سکے۔
کشمیری عوام کی جانب سے اس بھارتی منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد بھارتی گودی میڈیا حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے واویلا اور گمراہ کن خبروں کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی د یتا ہے۔
بھارت کی کالعدم ایکشن کیمٹی پر مبینہ طور پر کی جانے والی سرمایہ کاری کے مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر بھارت میں اس معاملے پر بے چینی بڑھ گئی ہے، جس کا اظہار میڈیا میں جاری پروپیگنڈہ مہم سے کیا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں بھارتی گودی میڈیا کے ایک پروپیگنڈہ سیل اور ” را ” فنڈڈ ری پبلک ٹی وی نے بھی آزاد کشمیر سے متعلق بے بنیاد اور من گھڑت دعوے نشر کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ایسے پروپیگنڈے کا مقصد عوام میں اشتعال پیدا کرنا، غلط فہمیاں پھیلانا اور آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو متاثر کرنا ہے اس سے قبل زی نیوز بھی اسی نوعیت کی رپورٹس نشر کر چکا ہے، جنہیں کشمیری عوام نے مسترد کر دیا تھا۔
اس تمام پروپیگنڈا مہم کے باوجود آزاد کشمیر کے باشعور اور غیور عوام نے انتشاری بیانیے کو قبول نہیں کیا، جبکہ متعدد افراد اس کالعدم کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان بھی کر چکے ہیں یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام اشتعال انگیز بیانیوں کے بجائے زمینی حقائق کو اہمیت دے رہے ہیں،بھارتی گوڈی میڈیا کی حالیہ مہم اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ کالعدم انتشاری کمیٹی کے ساتھ مبینہ روابط اور پشت پناہی کے سوالات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔
اس قسم کے پروپیگنڈے کا بنیادی مقصد رائے عامہ کو متاثر کرنا، صورتحال کو غیر ضروری طور پر حساس بنانا اور ایک مخصوص بیانیہ مسلط کرنا ہے، لیکن عوامی حمایت سے محروم عناصر کو محض پروپیگنڈے کے ذریعے تقویت نہیں دی جا سکتی۔ بیانیے تراشے جا سکتے ہیں، مگر زمینی حقائق اور عوامی رائے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی میڈیا کی یہ کھلی بوکھلاہٹ دراصل اس بات کی مہرِ تصدیق ہے کہ خطے کا امن تباہ کرنے کا مقامی پراجیکٹ بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور محبِ وطن کشمیریوں نے اپنے اتحاد سے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔