تیل کمپنیوں نے ملک میں پیٹرول کی ممکنہ قلت کے حوالے سے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کردیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف 15 روز کی ضرورت کے برابر پیٹرول ذخائر باقی رہ گئے ہیں۔
تیل کمپنیوں نے حکومت کو مقامی سطح پر پیٹرول کی ممکنہ قلت کے فوری خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری مداخلت نہ کی گئی تو پیٹرول (موٹر اسپرٹ/ایم ایس) کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
15جولائی کووفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کے نام’ ’انتہائی فوری‘‘ درجے کے خط میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے کہا کہ ملک میں پیٹرول کی فراہمی کی صورتحال غیر معمولی حد تک سنگین ہو چکی ہے، اس وقت صرف تقریباً 370 ہزار میٹرک ٹن موٹر اسپرٹ (ایم ایس) کا ذخیرہ موجود ہے، جو ملک کی تقریباً 15دن کی ضرورت کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پیٹرولیم قیمتوں پر عالمی منڈی سے زیادہ فائدہ عوام کو دیا گیا ، علی پرویز ملک
تیل کمپنیوں کا مزیدکہنا ہے کہ درآمدی پیٹرول کی کلیئرنس متاثر ہورہی ہے، تین درآمدی پیٹرول کارگو بروقت نہ پہنچے تو سپلائی کو دھچکا لگ سکتا ہے، 66.7 ارب کی عدم ادائیگی سے آئل کمپنیوں کو مالی بحران کا سامنا ہے،انتہائی کم ذخائر، درآمدی ایندھن کی کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر، طلب میں اضافے اور شدید مالی دباؤ سپلائی میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ مالی سال 26-2025 پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے تاریخ کا مہنگا ترین سال ثابت ہوا، جہاں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔
یہ بھی پڑھیں :سال 26 -2025 : عوام نے ملکی تاریخ کا مہنگا ترین پیٹرول و ڈیزل خریدا، اعداد و شمار سامنے آگئے
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران شہریوں نے ملکی تاریخ کا سب سے مہنگا پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل خریدا، جبکہ پٹرولیم لیوی بھی ریکارڈ سطح پر برقرار رہی۔

