آج سے تقریباً 2,200 سال قبل شہنشاہ اشوک نے موجودہ مانسہرہ میں ایک پیغام کندہ کروایا تھا، جو آج بھی تاریخ کا ایک اہم اور نادر ورثہ سمجھا جاتا ہے۔
مانسہرہ میں موجود اشوک کے سنگی فرامین برصغیر کی قدیم ترین تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ نوشتہ جات تیسری صدی قبل مسیح میں موریہ سلطنت کے حکمران شہنشاہ اشوک کے دور میں پتھروں پر کندہ کیے گئے تھے۔
یہ تاریخی فرامین مانسہرہ شہر کے قریب قدرتی چٹانوں پر خروشتی رسم الخط میں تحریر کیے گئے ہیں، جو اس زمانے میں شمال مغربی برصغیر میں رائج تھا۔ ان میں عوام کے لیے امن، مذہبی رواداری، انصاف، اخلاقیات، جانوروں سے حسن سلوک اور فلاح عامہ سے متعلق ہدایات درج ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ سنگی فرامین اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ پاکستان کا ہزارہ خطہ دو ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل اہم تجارتی اور تہذیبی راستوں کا حصہ تھا، جہاں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا ملاپ ہوتا تھا۔
اشوک کے یہ سنگی فرامین پاکستان کے اہم آثارِ قدیمہ میں شمار کیے جاتے ہیں اور ہر سال بڑی تعداد میں محققین، طلبہ اور سیاح انہیں دیکھنے مانسہرہ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ یادگار نہ صرف پاکستان کے تاریخی ورثے کی علامت ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی قدیم تہذیب اور حکمرانی کے نظام کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔