وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے اب بھی تیار ہیں، تاہم اگر ایران امریکا سے کیے گئے وعدوں یا مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور معاہدے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے تاہم امریکا نے حالیہ فوجی کارروائیاں اس وقت شروع کیں جب ایران نے مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے اور ان کا مؤقف واضح ہے کہ امریکا سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا لیکن معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں مناسب کارروائی بھی کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا عہد کیا تھا مگر اس کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد امریکا نے فوجی حملے کیے۔
کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ان تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف نہیں جا رہے یا وہاں سے روانہ نہیں ہو رہے جبکہ امریکی بحریہ خطے میں موجود ہے تاکہ عالمی بحری آمدورفت محفوظ اور بلا تعطل جاری رہ سکے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ایران میں بچیوں کے ایک اسکول پر حملے میں 168 طالبات کی ہلاکت سے متعلق کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جان بوجھ کر شہریوں یا بچوں کو نشانہ نہیں بناتی اس لیے اس واقعے کی مزید تفصیلات محکمہ دفاع کی تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔