ویتنام میں زمین کی تہہ کے نیچے واقع ایک غار نے ماہرین اور مہم جوؤں کو حیران کر دیا ہے، جہاں تقریباً 3 کلومیٹر طویل غار میں نایاب ’’کیو پرلز‘‘کی بڑی تعداد دریافت ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ قدرتی معدنی گولے ہزاروں سال کے دوران بنتے ہیں۔ غار کے اندر بہنے والے پانی میں موجود معدنیات، خاص طور پر کیلشیم کاربونیٹ تہہ در تہہ جمع ہوتی رہتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ ہموار موتی نما شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
غاروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیو پرلز کا ملنا غیر معمولی بات نہیں، لیکن ایک ہی مقام پر ان کی اتنی بڑی تعداد کا پایا جانا انتہائی نادر واقعہ ہے۔تحقیق کے مطابق یہ معدنی موتی نہایت نازک ہوتے ہیں اور ان کی تشکیل میں سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں سال لگ جاتے ہیں، اسی لیے انہیں قدرتی ورثے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی دریافتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ زمین کے اندر آج بھی بے شمار قدرتی راز پوشیدہ ہیں، جن کے بارے میں انسان ابھی تک مکمل طور پر آگاہ نہیں ہو سکا۔ سائنس دانوں نے زور دیا ہے کہ ان نازک قدرتی مقامات کا تحفظ انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل کی نسلیں بھی ان منفرد ارضیاتی عجائبات کا مشاہدہ کر سکیں۔