پاکستانی اداکارہ، ڈیجیٹل کریئیٹر اور ڈانسر مہر بانو نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت متعدد ٹی وی ڈراموں کے اسکرپٹس مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیے جا رہے ہیں، جس سے پیشہ ور مصنفین کی صلاحیتوں اور محنت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران مہر بانو نے کہا کہ لوگوں کو شاید اندازہ نہیں کہ ٹی وی پر نشر ہونے والے کئی ڈراموں کے اسکرپٹس اے آئی کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا، میں خود بھی ایسے ایک پروجیکٹ کا حصہ رہ چکی ہوں۔ یہ ان پروفیشنل رائٹرز کی سخت بے قدری ہے جنہوں نے برسوں اس انڈسٹری کے لیے محنت کی ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اسی صورت حال سے دل برداشتہ ہو کر انہوں نے کام کرنا کم کر دیا، کیونکہ وہ موجودہ حالات سے شدید مایوس ہیں۔مہر بانو نے گفتگو کے دوران ڈرامہ انڈسٹری میں خواتین کو درپیش مسائل پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ می ٹو تحریک کے بعد بھی خواتین کے لیے کام کی جگہ مکمل طور پر محفوظ نہیں بن سکی۔
اداکارہ کے مطابق، ’’آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ خواتین کام کی جگہ پر کس قدر غیر محفوظ ہوتی ہیں۔ میں نے برسوں ایسے افراد کے ساتھ کام کیا جن کا رویہ انتہائی نامناسب تھا، جبکہ شوٹنگ کے دوران نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی دیکھا، جو ناقابلِ برداشت تھا۔ میری دعا ہے کہ کسی بھی لڑکی کو ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘
مہر بانو کے ان بیانات نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں صارفین مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور شوبز انڈسٹری میں خواتین کے تحفظ سے متعلق مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔