بین المذاہب شادی پر تنقید، عامر خان نے پہلی بار خاموشی توڑ دی

بین المذاہب شادی پر تنقید، عامر خان نے پہلی بار خاموشی توڑ دی

بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان نے گوری اسپرٹ سے شادی کے بعد اپنی ذاتی زندگی پر ہونے والی تنقید اور مذہبی الزامات پر پہلی بار کھل کر ردعمل دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر خان کو شادی کے بعد مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ بعض ناقدین نے ان پر ’’لو جہاد‘‘ کے الزامات بھی عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ جان بوجھ کر ہندو خواتین سے شادی کرتے ہیں اور انہیں اسلام قبول کرواتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :اے آئی سے ڈراموں کے اسکرپٹس لکھے جا رہے ہیں، مہر بانو کا حیران کن انکشاف

تاہم ڈیکن کرونیکل کو دیے گئے انٹرویو میں عامر خان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ گوری اسپرٹ ہندو نہیں بلکہ مسیحی (عیسائی) ہیں، اور شادی کے بعد انہوں نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔

عامر خان نے کہا،’’نہ گوری، نہ کرن اور نہ ہی رینا نے اپنا مذہب تبدیل کیا، کیونکہ ہماری تمام شادیاں سول میرج کے تحت ہوئیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں :رجب بٹ کو کون جانتا ہے؟ وسیم عباس کا بیان وائرل

اداکار نے مزید کہا کہ ان کے خاندان میں مختلف مذاہب کے درمیان شادیاں معمول کی بات ہیں۔ ان کے مطابق ان کی دونوں بہنیں اور بیٹی آئرا خان ہندو خاندانوں میں شادی کر چکی ہیں، جبکہ ان کے کزن منصور خان کی اہلیہ مسیحی ہیں۔

واضح رہے کہ عامر خان نے حال ہی میں گوری اسپرٹ سے شادی کی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی بین المذاہب شادی سے متعلق مختلف دعوے اور بحث جاری ہے، تاہم اداکار نے واضح کیا ہے کہ ان کی شادی سول قوانین کے تحت ہوئی اور کسی فریق نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔

editor

Related Articles