سم رجسٹریشن کیلئے پی ٹی اے کیجانب سے نیا نظام متعارف کرانے پر غور

سم رجسٹریشن کیلئے پی ٹی اے کیجانب سے نیا نظام متعارف کرانے پر غور

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت (فیس ویریفکیشن) پر مبنی نئے تصدیقی نظام پر غور شروع کر دیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد سم کارڈ کے اجرا کے عمل کو مزید محفوظ، تیز اور صارف دوست بنانا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے ایک ایسے جدید نظام پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے ان افراد کو بھی آسانی سے سم کارڈ جاری کیا جا سکے گا جن کے فنگر پرنٹس موجودہ بائیومیٹرک نظام سے تصدیق نہیں ہو پاتے۔

بزرگ شہریوں اور مزدوروں کو بڑی سہولت ملنے کا امکان

مجوزہ نظام میں شناخت کی تصدیق چہرے کی شناخت (فیشل ویریفکیشن) کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ سکیورٹی کے موجودہ معیار کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔

یہ سہولت خاص طور پر بزرگ شہریوں، محنت کش مزدوروں اور ایسے افراد کے لیے فائدہ مند ہوگی جنہیں فنگر پرنٹس کی تصدیق کے دوران اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث انہیں سم حاصل کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :خبردار ! موبائل کی ایک پوشیدہ سیٹنگ آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کر سکتی ہے

پی ٹی اے نے اس منصوبے پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق حکومت اور پارلیمان کو ایک تفصیلی رپورٹ بھی جمع کرا دی ہے۔

اتھارٹی کے مطابق فنگر پرنٹس کی تصدیق کے محفوظ اور مستقل متبادل کی تلاش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کے لیے بہتر نظام تیار کیا جا رہا ہے۔

پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی تجویز

پی ٹی اے کی تجویز کے مطابق صارفین کی شناخت نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت سے کی جائے گی۔

اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ اس جدید طریقہ کار سے سم رجسٹریشن کا نظام مزید محفوظ، قابل اعتماد اور مؤثر بنایا جا سکے گا، جبکہ صارفین کو بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسانی میسر آئے گی۔

نادرا سے باضابطہ منظوری کی درخواست

پی ٹی اے نے نادرا سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے فنگر پرنٹس اور چہرے، دونوں کی بائیومیٹرک تصدیق کی اجازت دی جائے۔

اس کے ساتھ اتھارٹی نے سفارش کی ہے کہ نادرا ملک بھر میں سم کارڈ کی تصدیق کے لیے اس نظام کو باضابطہ منظوری دے تاکہ اسے عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔

نادرا کی منظوری کے بعد تمام ٹیلی کام کمپنیاں اپنے کسٹمر سروس سینٹرز اور فرنچائز آؤٹ لیٹس پر چہرے کی شناخت کے ذریعے صارفین کی تصدیق کی سہولت فراہم کر سکیں گی۔

اس اقدام سے ہزاروں ایسے افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو موجودہ بائیومیٹرک نظام میں فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے کے باعث مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

متبادل تصدیقی نظام کے ذریعے ہزاروں سمیں جاری

پی ٹی اے کے مطابق جنوری 2025 سے اب تک متبادل تصدیقی طریقہ کار کے تحت 70 ہزار 871 سمیں جاری کی جا چکی ہیں۔

یہ سمیں ان صارفین کو فراہم کی گئیں جن کے فنگر پرنٹس معمول کے بائیومیٹرک نظام سے تصدیق نہیں ہو سکے تھے، ایسے افراد نے نادرا کی جانب سے جاری کردہ خطوط یا طبی سرٹیفکیٹس جمع کرا کر اپنی شناخت مکمل کروائی، جس کے بعد انہیں سم کارڈ جاری کیے گئے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس عارضی متبادل نظام نے ہزاروں صارفین کو غیر ضروری تاخیر سے بچاتے ہوئے سم رجسٹریشن کا عمل آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ مجوزہ چہرے کی شناخت کا نظام اس عمل کو مزید مؤثر اور مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles