برطانیہ میں سیاسی قیادت کی اہم تبدیلی کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم نے ملک کے نئے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اینڈی برنہم نے بکنگھم پیلس میں بادشاہ چارلس سے ملاقات کی،جہاں بادشاہ نے انہیں حکومت بنانے کی باضابطہ دعوت دی، برطانوی آئینی روایت کے مطابق بادشاہ کی دعوت کے بعد ہی نئے وزیراعظم اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بادشاہ چارلس کو اپنا استعفیٰ پیش کیا، جسے قبول کر لیا گیا۔ استعفیٰ منظور ہونے کے بعد کیئر اسٹارمر باضابطہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہو گئے، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔
حکمران جماعت لیبر پارٹی نے رکن پارلیمان اور گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کو اپنا نیا رہنما منتخب کیا، جس کے نتیجے میں وہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم بن گئے۔ اینڈی برنہم کو عوامی خدمات، صحت، مقامی حکومت اور شہری ترقی کے شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے، جبکہ وہ گریٹر مانچسٹر کے میئر کی حیثیت سے بھی نمایاں کارکردگی دکھا چکے ہیں۔
اینڈی برنہم کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے، انہوں نے پہلی مرتبہ 2010 میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے انتخاب لڑا، تاہم کامیابی حاصل نہ کر سکے بعد ازاں 2015 میں انہوں نے دوبارہ پارٹی قیادت کے لیے قسمت آزمائی کی، لیکن اس بار بھی جیریمی کوربن کے بعد دوسرے نمبر پر رہے۔ مسلسل سیاسی جدوجہد اور طویل تجربے کے بعد وہ بالآخر برطانیہ کے اعلیٰ ترین سیاسی منصب تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کی حکومت کو برطانیہ کی سست معاشی نمو، مہنگائی، قومی صحت کے نظام (NHS) پر بڑھتے دباؤ، رہائشی بحران، غیر قانونی امیگریشن اور عالمی سفارتی چیلنجز جیسے اہم مسائل کا سامنا ہوگا۔
دوسری جانب لیبر پارٹی کے حامیوں کو امید ہے کہ نئی قیادت عوامی فلاح، معاشی استحکام اور سرکاری خدمات میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ نئے وزیراعظم آئندہ چند روز میں اپنی کابینہ کا اعلان کریں گے اور حکومت کی ترجیحات بھی سامنے لائیں گے۔