گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قاتل اور جج کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سامنے آگئیں

گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قاتل  اور جج کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سامنے آگئیں

پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے گرفتار ملزم سعد عباسی کو مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے تفتیش جلد مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران تفتیشی ٹیم نے ملزم سعد عباسی کو سخت سکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نوید کیانی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی شناخت کا قانونی عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل میں ہونے والی شناخت پریڈ کے دوران چشم دید گواہان کامران اور وسیم نے ملزم سعد عباسی کی باقاعدہ شناخت کر لی ہے۔

پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ مزید تفتیش، آلۂ قتل اور دیگر اہم شواہد کی برآمدگی کے لیے ملزم کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گروپ کیپٹن شہید عاصم طارق کے قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت

عدالتی کارروائی کے دوران اس وقت جذباتی منظر دیکھنے میں آیا جب ملزم سعد عباسی کٹہرے میں کھڑے ہو کر رونے لگا۔ اس موقع پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب رونے کا کوئی فائدہ نہیں، اس جرم سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور ایک معصوم خاندان اجڑ گیا ہے۔

جج نے مزید کہا کہ ملزم کے مبینہ جرم کے نتیجے میں ملک ایک قیمتی قومی اثاثے سے محروم ہپوا، اور اس طرح کے اقدامات سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے پولیس کی جانب سے مانگا گیا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے بجائے ملزم سعد عباسی کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ تفتیش جلد از جلد مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کیپٹن اسفندیار بخاری شہید کی حقیقی داستان پر مبنی ڈرامے کا ٹیزر جاری

واضح رہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس شواہد اکٹھے کرنے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

Related Articles