حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 روپے 78 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے، جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مجوزہ نئے طریقہ کار پر حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے بعد آل پاکستان پیٹرول پمپس ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
جنرل سیکرٹری آل پاکستان پیٹرول پمپس ایسوسی ایشن نعمان علی بٹ کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ پیٹرولیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، جس کے باعث ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کا حکومتی منصوبہ کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسوسی ایشن حکومت کے مجوزہ ڈیلی پرائس مکینزم کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
نعمان علی بٹ کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے بعد آج رات 12 بجے سے ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کرتی، احتجاج اور ہڑتال جاری رہے گی۔
پیٹرول پمپ مالکان کے اس اعلان کے بعد عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات جلد بحال نہ ہوئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تعطل کے باعث آئندہ چند روز صورتحال مزید اہم رخ اختیار کر سکتی ہے۔