300 سال پرانی مٹی میں پلاسٹک ملا، مگر حقیقت کچھ اور نکلی

300 سال پرانی مٹی میں پلاسٹک ملا، مگر حقیقت کچھ اور نکلی

سائنس دانوں کو یورپ کے مختلف علاقوں میں صدیوں پرانی زمینی تہوں میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات ملنے کے بعد ابتدا میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جب پلاسٹک کی ایجاد ہی 1900 کی دہائی میں ہوئی تو یہ ذرات 1733 کی تہہ تک کیسے پہنچ گئے؟

تحقیقی ٹیموں نے لٹویا کی جھیلوں کی تہہ، ناروے کے ساحلی سمندری فرش اور اسکاٹ لینڈ کے قریب گہرے سمندر سے حاصل کیے گئے نمونوں کا جائزہ لیا۔ ان میں بعض مائیکرو پلاسٹک ایسے زمینی طبقات میں بھی ملا جن کی عمر 1733 تک جا پہنچتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ پلاسٹک 3 سو سال پہلے موجود تھا، بلکہ جدید دور کا مائیکرو پلاسٹک وقت گزرنے کے ساتھ زمین کی پرانی تہوں میں منتقل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:انوکھی مکڑی جو جال نہیں بنتی، پھر بھی شکار ہاتھ سے نہیں جانے دیتی

سائنس دانوں نے وضاحت کی کہ زمین اور سمندر کی تہیں مکمل طور پر بند نہیں ہوتیں۔ کیڑے مکوڑے، خاص طور پر زمین میں سرنگیں بنانے والے جاندار، مسلسل مٹی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہتے ہیں۔ اس قدرتی عمل کو بایوٹربیوشن  کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مائیکرو پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات مٹی کے ذرات کے درمیان موجود قدرتی خالی جگہوں سے گزرتے ہوئے آہستہ آہستہ نیچے کی پرانی تہوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :چینی کا ایک دانہ بھی چیونٹیوں سے کیوں نہیں چھپتا؟ سائنس نے حیران کن راز بتا دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس لیے 1733 کی تہہ کی عمر تو درست ہے، لیکن اس میں موجود مائیکرو پلاسٹک جدید دور کا ہے، جو بعد میں نیچے منتقل ہو کر اس قدیم تہہ کا حصہ بن گیا۔

اس دریافت نے سائنس دانوں کے لیے ایک نیا چیلنج بھی پیدا کر دیا ہے۔ محققین مائیکرو پلاسٹک کو اینتھروپوسین یعنی انسان کے زمین پر نمایاں اثرات کے نئے ارضیاتی دور کی شناخت کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے، لیکن مائیکرو پلاسٹک کا مختلف تہوں میں منتقل ہونا اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ مائیکرو پلاسٹک صرف سمندروں اور فضا ہی نہیں بلکہ زمین کی گہرائیوں تک بھی پہنچ رہا ہے، جو ماحولیاتی آلودگی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک نئی اور تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔

editor

Related Articles