آج رات 12 بجے کے بعد پیٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے، مذاکرات ناکامی کے بعد مالکان کا اعلان

آج رات 12 بجے کے بعد پیٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے، مذاکرات ناکامی کے بعد مالکان کا اعلان

حکومت اور آل پاکستان پٹرول پمپ مالکان ایسوسی ایشن کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے معاملے پر جاری مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے جس کے بعد ایسوسی ایشن نے آج رات 12 بجے سے ملک گیر غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

آل پاکستان پٹرول پمپ مالکان ایسوسی ایشن کے اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کے بعد آج دیگر حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں نہ تو روزانہ قیمتوں کے نئے نظام پر اتفاق ہو سکا اور نہ ہی ڈیلرز کے کمیشن میں اضافے کے مطالبے پر کوئی پیش رفت ہوئی جس کے باعث ملک بھر کے نجی پٹرول پمپ بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام پٹرول پمپ مالکان کے لیے قابلِ عمل نہیں، جبکہ موجودہ ڈیلر مارجن بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری

یہ بھی پڑھیں:گاڑیوں کی قیمتوں سے متعلق ٹویوٹا کمپنی نے بڑا اعلان کر دیا

ادھر ہڑتال کے معاملے پر ملک بھر کے ڈیلرز میں مکمل اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض پٹرول ڈیلرز نے فوری ہڑتال سے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے مطالبات پر غور کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے اس لیے مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر فیصلہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے اور حکومت بحران کے حل کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کا مؤقف ہے کہ بعض ڈیلرز کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت مثبت رہی ہے اور حکومت ایندھن کی فراہمی میں تعطل پیدا نہیں ہونے دینا چاہتی۔

یہ بھی پڑھیں:صرف 10 لاکھ میں کون سی گاڑی ملے گی ؟ مکمل فہرست آگئی

اطلاعات کے مطابق آج بھی حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مزید رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کا امکان موجود ہے۔ اگر فریقین کسی قابلِ قبول فارمولے پر متفق ہو جاتے ہیں تو ہڑتال کا اعلان واپس بھی لیا جا سکتا ہے تاہم اگر ڈیڈ لاک برقرار رہا تو آج رات 12 بجے کے بعد ملک کے متعدد نجی پٹرول پمپ بند ہو سکتے ہیں، جس سے ایندھن کی فراہمی، ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے حال ہی میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین شروع کیا ہے، جسے پٹرول پمپ مالکان مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے کاروبار کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔

editor

Related Articles