ایک دن میں سونے نے اونچی اڑان پکڑ لی ، فی تولہ بڑا اضافہ

ایک دن میں سونے نے اونچی اڑان پکڑ لی ، فی تولہ بڑا اضافہ

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 29 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں تیزی برقرار رہنے کے باعث مقامی مارکیٹ پر اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 700 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے مقرر ہو گئی ہے۔

اسی طرح 10 گرام 24 قیراط سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے تک پہنچ گئی جس سے زیورات خریدنے والے شہریوں کو مزید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فی تولہ چاندی 219 روپے مہنگی ہو کر 6 ہزار 396 روپے کی سطح پر پہنچ گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت میں بھی اسی تناسب سے اضافہ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:سوزوکی نے گاڑی مہنگی کر دی، 7 لاکھ روپے اضافہ

دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمت میں تیزی برقرار رہی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا 47 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 68 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری اور امریکی ڈالر میں اتار چڑھاؤ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار حصص بازار اور دیگر پرخطر سرمایہ کاری کے بجائے سونے کو محفوظ اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کی جانب رخ کر رہے ہیں۔

صرافہ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کشیدگی برقرار رہی اور بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمت مزید بڑھی تو پاکستان میں بھی سونے کی قیمت نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر اور عالمی مارکیٹ کے رجحانات آئندہ چند روز میں مقامی سونے کی قیمتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

دوسری جانب مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث زیورات کی خریداری میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ سرمایہ کار سونے کو مستقبل کی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles