پاکستان کی کوہ پیمائی کا بڑا کارنامہ، عابد اللہ بیگ نے بغیر اضافی ایکسیجن کے گاشر برم 2 سر کر کے دنیا کو حیران کر دیا

پاکستان کی کوہ پیمائی کا بڑا کارنامہ، عابد اللہ بیگ نے بغیر اضافی ایکسیجن کے گاشر برم 2 سر کر کے دنیا کو حیران کر دیا

کوہ پیمائی کی دنیا میں پاکستان کے لیے ایک اور بڑی اور تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے، جہاں ہنزہ سے تعلق رکھنے والے نامور کوہ پیما عابد اللہ بیگ نے دنیا کی 13 ویں سب سے بلند چوٹی گاشر برم 2 (8,035 میٹر) کو کامیابی سے سر کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، گلگت بلتستان کے وادیِ ہنزہ سے تعلق رکھنے والے عابد اللہ بیگ نے یہ دشوار اور خطرناک چوٹی بغیر کسی اضافی آکسیجن اور بغیر کسی مقامی پورٹر یا شیرپا کی مدد کے سر کر کے ایک منفرد اور نایاب اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

عابد اللہ بیگ نے کون سی چوٹیاں سر کیں؟

عابد اللہ بیگ کا شمار پاکستان کے انتہائی تجربہ کار اور دلیر کوہ پیماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ اس سے قبل دنیا کی انتہائی قاتل چوٹی نانگا پربت (8,126 میٹر)، گاشر برم 1 (8,080 میٹر) اور براڈ پیک (8,051 میٹر) کو بھی کامیابی سے تسخیر کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ انہیں ہندو کش سلسلہ کوہ کی سب سے بلند چوٹی تریچ میر (7,708 میٹر) سمیت متعدد بلند و بالا چوٹیوں کو بغیر اضافی آکسیجن کے سر کرنے کا ممتاز اعزاز بھی حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی خواتین نے کوہ پیمائی میں تاریخ رقم کردی

عابد اللہ بیگ کی اس شاندار اور لازوال کامیابی پر نہ صرف ہنزہ اور گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور کھیل کے حلقوں کی جانب سے اسے ملک کے لیے باعثِ فخر قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا علاقہ گلگت بلتستان کوہ پیمائی اور سیاحت کا عالمی مرکز مانا جاتا ہے، جہاں دنیا کی 14 بلند ترین (8,000 میٹر سے بلند) چوٹیوں میں سے 5 پاکستان میں واقع ہیں، جن میں کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک، گاشر برم 1 اور گاشر برم 2 شامل ہیں۔

کوہ پیمائی کی دنیا میں کسی بھی 8,000 میٹر سے بلند چوٹی (‘ڈیتھ زون’) کو بغیر اضافی آکسیجن اور بغیر کسی شیرپا، پورٹر گائیڈ کی مدد کے سر کرنا انتہائی خطرناک اور مشکل ترین مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔

آکسیجن کی کمی کے باعث جسمانی طاقت اور دماغی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کے مقامی کوہ پیما مالی اور تکنیکی وسائل کی کمی کے باوجود اپنی جبلت اور زبردست جسمانی صلاحیت کے بل بوتے پر دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔

پاکستانی کوہ پیماؤں کی عالمی سطح پر پیش رفت

عابد اللہ بیگ کا بغیر آکسیجن اور بغیر شیرپا کی مدد کے 8,000 میٹر سے بلند چوٹی سر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی کوہ پیما صرف غیر ملکی کوہ پیماؤں کے سامان اٹھانے والے پورٹرز نہیں ہیں، بلکہ وہ خود دنیا کے بہترین اور آزاد کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:آج رات 12 بجے کے بعد پیٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے، مذاکرات ناکامی کے بعد مالکان کا اعلان

الپائن سٹائل کوہ پیمائی کا فروغ

بغیر اضافی آکسیجن کے چڑھائی کرنا جسے ‘الپائن سٹائل’ یا خالص کوہ پیمائی کہا جاتا ہے، کوہ پیمائی کی دنیا میں سب سے اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔ عابد اللہ بیگ کی یہ کامیابی ان کی غیر معمولی جسمانی برداشت اور صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔

سرکاری اور نجی سرپرستی کی ضرورت

گلگت بلتستان کے ان ہیرو کوہ پیماؤں کی مسلسل کامیابیوں کے باوجود، انہیں اکثر سپانسرشپ اور بین الاقوامی مالی معاونت کی شدید کمی کا سامنا رہتا ہے۔

 اگر حکومت اور نجی ادارے عابد اللہ بیگ جیسے کوہ پیماؤں کو جدید سامان اور مالی سرپرستی فراہم کریں تو وہ دنیا کے تمام بڑے ریکارڈز پاکستان کے نام کر سکتے ہیں۔

Related Articles