وفاقی حکومت نے قومی بچت کی مختلف اسکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کر دی ہے، جس کے بعد پنشنرز، عام سرمایہ کاروں اور ویلفیئر اکاؤنٹ ہولڈرز کو پہلے کے مقابلے میں کم منافع حاصل ہوگا۔
قومی بچت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ (Regular Income Certificate) پر ماہانہ منافع کی شرح کم کرکے 11.52 فیصد مقرر کر دی گئی جس کے تحت نئی شرح میں ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ 960 روپے منافع ملے گا۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ پر سالانہ منافع کی شرح کم کرکے 12.96 فیصد کر دی گئی ہے، جس کے باعث ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے صارفین کو بھی کم منافع حاصل ہوگا۔
اسی طرح اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ کے لیے پہلے چھ ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر 11.2 فیصد جبکہ اگلے چھ ماہ کے لیے 12.6 فیصد منافع مقرر کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ کی سالانہ منافع کی شرح بھی کم کرکے 12.96 فیصد کر دی گئی ہے۔
نئی شرحوں کے بعد پنشنرز، بزرگ شہریوں، ویلفیئر اکاؤنٹ ہولڈرز اور دیگر سرمایہ کاروں کو پہلے کے مقابلے میں کم منافع حاصل ہوگا، جس کے باعث قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کی ماہانہ اور سالانہ آمدن پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
قومی بچت حکام کے مطابق منافع کی نئی شرحیں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور تمام متعلقہ اسکیموں پر ان کا اطلاق کیا جائے گا۔