پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے اپنے اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر فار کلائمیٹ سائنسز (SACCS) کے ذریعے “اسپیس فور کلائمیٹ، برفانی ذخائر کا جائزہ، جنگلات، فضائی معیار، ماحولیات اور آبی گزرگاہوں کی حرکیات” کے موضوع پر علاقائی سمپوزیم کا کامیاب انعقاد سرینا ہوٹل پشاور میں کیا۔
یہ سمپوزیم سپارکو کی “اسپیس فور کلائمیٹ انیشی ایٹو اینڈ اویئرنیس آن کلائمیٹ چینج امپیکٹس” کے تحت منعقد ہونے والی سات شہروں پر مشتمل قومی و صوبائی سمپوزیم سیریز کا پہلا پروگرام تھا، جس کے آئندہ مراحل اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، گلگت اور مظفرآباد میں منعقد کیے جائیں گے۔
سمپوزیم میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام، پالیسی سازوں، سائنس دانوں، محققین، ترقیاتی شراکت داروں، جامعات کے ماہرین اور ماحولیاتی شعبے سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی، جہاں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، پائیدار ترقی کے فروغ اور خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکا کوموسمیاتی نظام سے آگاہی دی گئی
اس موقع پر شرکاء کو پاکستان کی مقامی سطح پر تیار کردہ خلائی صلاحیتوں اور سیٹلائٹ پر مبنی موسمیاتی نگرانی کے نظام سے آگاہ کیا گیا، جبکہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
سمپوزیم میں خیبرپختونخوا اور ملک کو درپیش موسمیاتی خطرات، جن میں سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOFs)، خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور آبی وسائل میں تبدیلی جیسے مسائل شامل ہیں، پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس اور جدید خلائی ٹیکنالوجی ان چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
افتتاحی سیشن
افتتاحی سیشن سے ایس اے سی سی ایس کے ڈپٹی ڈی جی ڈاکٹر محمد فاروق نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے خلائی سائنس اور جدید جغرافیائی معلوماتی نظام کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سیکرٹری سپارکو آفتاب احمد خان لغمانی نے اپنے خطاب میں حاضرین کو خوش آمدید کہا۔
تقریب کے مہمان خصوصی طلحہ حسین فیصل، سینئر سیکرٹری، محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات، حکومت خیبرپختونخوا تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی سطح پر موسمیاتی حکمرانی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام میں جدید جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مؤثر انداز میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر امجد علی ودیگر کے خطابات
سمپوزیم سے ڈاکٹر امجد علی، ڈائریکٹر جنرل SPARC، سپارکو، ڈاکٹر محمد فاروق، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل SACCS، سپارکو، فرہاد علی، کنزرویٹر آف فاریسٹس، حکومت خیبرپختونخوا، محمد فواد حیات، سینئر ڈائریکٹر ری چارج پاکستان، WWF-Pakistan، مبشر حسین، منیجر ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (DRR)، نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (NDRMF)، پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن، شعبہ جغرافیہ و جیومیٹکس، جامعہ پشاور، ڈاکٹر متیع الحق، ڈائریکٹر SACRED، سپارکو، ڈاکٹر ابرار الحسن اختر، ڈائریکٹر جیوفارسٹری، سپارکو، ڈاکٹر سعید الرحمٰن، ڈائریکٹر SPARC، سپارکو پشاور، اور ڈاکٹر جواد ناصر، ڈائریکٹر ایٹماسفیرک ریسرچ، سپارکو نے بھی خطاب کیا۔
تمام مقررین نے موسمیاتی موافقت، ماحولیاتی تحفظ اور قومی سطح پر موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے سائنسی اداروں اور حکومتی محکموں کے درمیان مؤثر ادارہ جاتی تعاون کو ناگزیر قرار دیا، جبکہ سائنسی شواہد اور خلائی ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کی اہمیت پر زور دیا۔
سمپوزیم کی نمایاں خصوصیت سپارکو کے “اسپیس فور کلائمیٹ” اقدام کی باضابطہ پیشکش اور اسپیس فور کلائمیٹ جیو اسپیشل پورٹلز کا عملی مظاہرہ تھا، جس کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی موسمیاتی معلومات کس طرح وفاقی اور صوبائی اداروں کی بروقت اور مؤثر فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ یہ پورٹل پاکستان کے سیٹلائٹ اثاثوں، جن میں PRSS-1، SAR-1، EO سیریز اور ہائپر اسپیکٹرل صلاحیتیں شامل ہیں، سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کرتا ہے، جس کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں، فضائی معیار، گلیشیئرز، جنگلات، برفانی ذخائر، آبی گزرگاہوں، زمینی استعمال، ساحلی ماحولیاتی نظام اور دیگر اہم ماحولیاتی اشاریوں کے بارے میں تقریباً حقیقی وقت میں معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
تکنیکی سیشن
تکنیکی سیشن میں ماہرین نے خیبرپختونخوا میں موسمیاتی حساسیت کے جائزے، آپٹیکل اور Synthetic Aperture Radar (SAR) سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے سیلابی خطرات کی نقشہ سازی، جنگلات کے رقبے میں تبدیلی کی نگرانی، محفوظ قدرتی علاقوں کی مانیٹرنگ، گلیشیئرز اور Glacial Lake Outburst Floods (GLOFs) کی نگرانی، اور سیٹلائٹ کی مدد سے فضائی معیار و ماحولیاتی تجزیے جیسے موضوعات پر تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کیں۔
مقررین نے واضح کیا کہ پاکستان کی مقامی خلائی ٹیکنالوجی اب موسمیاتی موافقت، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، قدرتی وسائل کے مؤثر انتظام اور پائیدار ترقی کے لیے عملی اور قابلِ اعتماد حل فراہم کر رہی ہے۔
سمپوزیم کے دوران “Institutionalizing Space-Based Climate Services for Provincial Climate Governance” کے عنوان سے ایک جامع پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی، جس میں سرکاری اداروں، سائنسی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مؤثر رابطوں کو مزید مضبوط بنانے، جیو اسپیشل معلومات تک رسائی بڑھانے اور سیٹلائٹ پر مبنی موسمیاتی خدمات کو منصوبہ بندی، قدرتی آفات سے پیشگی تیاری، قدرتی وسائل کے انتظام اور ماحولیاتی حکمرانی کا باقاعدہ حصہ بنانے پر زور دیا گیا۔
سمپوزیم کے اختتام پیش کی گئی سفارشات
سمپوزیم کے اختتام پر سفارشات پیش کی گئیں کہ اسپیس فور کلائمیٹ خدمات کو تمام متعلقہ صوبائی محکموں میں ادارہ جاتی سطح پر اپنایا جائے، سائنسی اور حکومتی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے، جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز کے شعبے میں استعداد کار میں اضافہ کیا جائے، اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے جدید موسمیاتی معلوماتی خدمات کی مسلسل ترقی کو یقینی بنایا جائے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سپارکو خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کے ذریعے قومی ترقی، موسمیاتی لچک، ماحولیاتی پائیداری اور قدرتی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اقدامات پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)، پیرس موسمیاتی معاہدے (Paris Agreement) اور سینڈائی فریم ورک برائے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (Sendai Framework for Disaster Risk Reduction) کے تحت کیے گئے بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔