پاکستان کے خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی ادارے (سپارکو) نے ملک کے شمالی علاقوں میں 130 ایسی برفانی جھیلوں کی نشاندہی کی ہے جو پھٹنے کی صورت میں شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
سپارکو کے مطابق ان جھیلوں سے گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOF) کا خطرہ موجود ہے، جس سے قریبی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ادارے کی جانب سے 31 مئی اور یکم جون 2026 کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں معلوم ہوا کہ 130 میں سے 24 جھیلیں اس وقت برف سے آزاد ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ باقی جھیلیں تاحال منجمد حالت میں ہیں۔
سپارکو نے تمام ممکنہ خطرناک جھیلوں کی نقشہ سازی مکمل کرتے ہوئے ان آبادیوں کی بھی نشاندہی کی ہے جو کسی ممکنہ سیلابی صورتحال سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ حاصل شدہ معلومات باقاعدگی سے قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
رپورٹ میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں سے حاصل کردہ معلومات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے خطرات کا مزید جامع اندازہ لگایا جا رہا ہے۔