سینیٹ ملازمین کے اضافی الاؤنس کا معاملہ دوبارہ زیر غور

سینیٹ ملازمین کے اضافی الاؤنس کا معاملہ دوبارہ زیر غور

سینیٹ ملازمین کو اضافی الاؤنس دینے کا معاملہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، جس پر سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی نے وزارت قانون سے قانونی رائے طلب کر لی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں، جبکہ اے جی پی آر کو ایک ہفتے کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں اضافی الاؤنس کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ اس معاملے پر وزارت قانون سے قانونی رائے طلب کی گئی ہے تاکہ آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں، سلیم مانڈوی والا

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سینیٹ ملازمین کے اضافی الاؤنس کے معاملے میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے گئے قانون کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور کوئی بھی عدالت پارلیمانی امور میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹ کسی ملازم کو تنخواہ دینا یا اس میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تو یہ معاملہ عدالت کے فیصلے کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق وزارت خزانہ، وزارت قانون اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کو اس معاملے میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آٹے اور گندم کی نئی سرکاری قیمتیں مقرر، فلور ملز کو یومیہ 2 ہزار میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کا فیصلہ

اے جی پی آر کو ایک ہفتے میں عملدرآمد کی ہدایت

چیئرمین کمیٹی نے اے جی پی آر کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر اس فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے، بصورت دیگر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوا کر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے اے جی پی آر کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو اپنے اختیارات میں مزید اضافہ بھی کر سکتی ہے۔

سینیٹ کو اے جی پی آر کے دائرہ کار سے الگ کرنے کی سفارش

اجلاس کے دوران یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ متعلقہ کمیٹی چیئرمین سینیٹ کو سفارش کرے گی کہ سینیٹ کو اے جی پی آر کے دائرہ کار سے الگ کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ سینیٹ کے بجٹ کی منظوری وزارت خزانہ نہیں دیتی، اس لیے مالیاتی معاملات میں پارلیمان کی خودمختاری کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

Related Articles