چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کا مستقبل کشمیری عوام کے فیصلے سے طے ہونا چاہیے اور انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہیے، بلٹ سے نہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ کشمیر کو جنت نظیر بنانے، خطے میں امن و انصاف قائم کرنے اور کشمیری عوام کو ان کے تمام جائز حقوق دلانے کے خواہاں ہیں،ان کا کہنا تھا کہ حقِ حاکمیت کا تقاضا ہے کہ جس امیدوار کو عوام ووٹ دیں، کامیابی بھی اسی کے حصے میں آئے، جبکہ ووٹ چوری کو کسی صورت چھپایا نہیں جانا چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد آئینی کنونشن بلایا جائے گا، جبکہ کشمیری مہاجرین کو آزاد کشمیر اسمبلی میں مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے،بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کشمیریوں کو این ایف سی میں آبزرور اسٹیٹس دلانے کے لیے کوشش کرے گی اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ترقیاتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں صرف حقِ ملکیت نہیں بلکہ حقِ روزگار بھی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبہ پاکستان کو روشن کرتا ہے، لیکن کشمیر کی ترقی پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے مظفرآباد میں بہتر ٹرانسپورٹ، روزگار کے مواقع، اسپتالوں، انٹرنیٹ، سڑکوں، اسکولوں، جامعات اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا،بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر اسمبلی کی جانب سے ٹروتھ کمیشن کی قرارداد منظور کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج ختم کرکے کمیشن کو قبول کریں۔
تاہم انہوں نے میرپور انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شواہد پیش کیے، لیکن افسوس کے ساتھ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2 اگست سے قبل تمام انتخابی شکایات کی کھلی سماعت کی جائے اور اگر انتخابات شفاف ہوئے ہیں تو تمام ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی ساکھ بحال کرنا ہوگی، جبکہ ریاستی اداروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد اہم ہے یا کسی سیاسی جماعت کا مفاد، بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ 12 نشستیں متنازع ہیں اور خبردار کیا کہ شفاف تحقیقات نہ ہونے کی صورت میں عوامی احتجاج میں اضافہ ہو سکتا ہے۔