پاکستان کا سعودی بحری دفاعی اتحاد کی حمایت کا اعلان، 14 ممالک مشترکہ اعلامیے کا حصہ بن گئے

پاکستان کا سعودی بحری دفاعی اتحاد کی حمایت کا اعلان، 14 ممالک مشترکہ اعلامیے کا حصہ بن گئے

سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے زیر اہتمام کثیرالقومی میری ٹائم دفاعی اتحاد کے قیام سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت 14 ممالک نے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے اس دفاعی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا۔

اجلاس جمعرات، 30 جولائی 2026 کو منعقد ہوا، جس میں 43 ممالک کے سربراہانِ افواج یا ان کے نمائندوں اور یورپی یونین کے وفد نے شرکت کی۔ اجلاس میں مجموعی طور پر 51 ممالک اور تنظیموں کو مدعو کیا گیا تھا، جن میں سے متعدد نے بذاتِ خود جبکہ بعض نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

بحری سلامتی اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات پر غور

اجلاس میں بین الاقوامی آبی گزرگاہوں، تجارتی بحری جہازوں، توانائی بردار ٹینکروں اور بحری انفراسٹرکچر کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ بحری راستوں کا تحفظ، عالمی سپلائی چین کا استحکام اور عالمی معیشت کی سلامتی اجتماعی بین الاقوامی تعاون کی متقاضی ہے۔

اس موقع پر کثیرالقومی میری ٹائم دفاعی اتحاد کے مجوزہ چارٹر، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، آپریشنل طریقہ کار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے پاکستان کو بڑا مالی ریلیف دے دیا، 5 ارب ڈالر قرض کی مدت میں 3 سال توسیع

سعودی عرب اتحاد کا بانی اور میزبان ملک قرار

اجلاس کے دوران اتفاق کیا گیا کہ سعودی عرب اس مجوزہ دفاعی اتحاد کا بانی، قائد اور میزبان ملک ہوگا، جبکہ اتحاد کا ہیڈکوارٹر بھی مملکت میں قائم کیا جائے گا۔ شرکاء نے اس فیصلے کو عالمی برادری کے سعودی عرب پر اعتماد اور بحری سلامتی کے فروغ میں اس کے قائدانہ کردار کا اعتراف قرار دیا۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ اتحاد میں شامل ہونے کے خواہش مند ممالک کے عسکری منصوبہ ساز آئندہ مرحلے میں بنیادی امور کو حتمی شکل دینے کے لیے کام جاری رکھیں گے، جس میں اتحاد کے چارٹر، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، تکنیکی ٹیموں اور آپریشنل میکنزم کی تکمیل شامل ہوگی۔

پاکستان سمیت 14 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

اجلاس کے اختتام پر پاکستان سمیت 14 ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کثیرالقومی میری ٹائم دفاعی اتحاد کے منصوبے کی حمایت اور اس کے قیام سے متعلق طے پانے والے اتفاقِ رائے کا خیرمقدم کیا۔

مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے والے ممالک میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اجلاس میں شریک دیگر ممالک نے بھی اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور وہ اتحاد میں شمولیت کے لیے اپنے اپنے ممالک میں ضروری قانونی و انتظامی کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے لیے بعد ازاں مشترکہ اعلامیے میں شامل ہونے کا دروازہ کھلا رہے گا۔

بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ کا عزم

سعودی عرب نے اس موقع پر واضح کیا کہ کثیرالقومی میری ٹائم دفاعی اتحاد ایک کھلا بین الاقوامی دفاعی اقدام ہے، جس میں وہ تمام ممالک شامل ہو سکتے ہیں جو اس کے مقاصد اور اصولوں سے اتفاق رکھتے ہوں۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتحاد کے قیام کے لیے بنیادی اقدامات جلد مکمل کیے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کا تحفظ، عالمی تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

Related Articles