مشرق وسطی کشیدگی،امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد

مشرق وسطی کشیدگی،امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں امریکی شمولیت محدود کرنے کی قرارداد مسترد کردی ہے۔

قرارداد کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے اختیار کو محدود کرنا اور کسی بھی جنگی اقدام کے لیے کانگریس کی منظوری کو لازمی قرار دینا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں قرارداد کے حق میں 49 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 50 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یوں قرارداد ایک ووٹ کے معمولی فرق سے مسترد ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق ووٹنگ کے دوران ریپبلکن پارٹی کے 3 سینیٹرز نے ڈیموکریٹک ارکان کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ دوسری جانب ایک ڈیموکریٹ سینیٹر نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے ریپبلکن ارکان کا ساتھ دیا۔ اس طرح دونوں جماعتوں کے ارکان کے درمیان ووٹوں کی تقسیم میں معمولی فرق رہا۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی بڑی سیاسی فتح، ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کی قرارداد مسترد

کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے کا مطالبہ

ایران کے خلاف جنگ سے متعلق قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی فوج کو ایران کے خلاف طویل مدتی فوجی کارروائیوں میں شامل رکھنے کے لیے کانگریس کی باقاعدہ منظوری حاصل کی جائے۔

قرارداد کے حامی سینیٹرز کا مؤقف تھا کہ جنگ اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے حوالے سے فیصلہ صرف صدر کے اختیار میں نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق امریکی آئین کے تحت جنگ سے متعلق اہم فیصلوں میں کانگریس کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

حامی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے سے قبل امریکی قانون ساز ادارے کو صورتحال کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اہم ووٹ

قرارداد کی ناکامی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سینیٹ کی جانب سے قرارداد مسترد کیے جانے کے بعد صدر کے لیے ایران کے خلاف موجودہ فوجی پالیسی جاری رکھنے کی سیاسی گنجائش برقرار رہی ہے۔

ووٹنگ سے یہ بھی واضح ہوا کہ ایران کے معاملے پر دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کے اندر مکمل یکجہتی موجود نہیں ہے۔ اگرچہ اکثریتی ریپبلکن ارکان نے صدر کے موقف کی حمایت کی تاہم پارٹی کے 3 سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر جنگی اختیارات محدود کرنے کی حمایت کی۔

دوسری جانب ایک ڈیموکریٹ سینیٹر کی جانب سے قرارداد کی مخالفت نے بھی ظاہر کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی پالیسی پر سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافات موجود ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :روسی تیل خریدنے پر بھارت پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے پر غور، امریکی سینیٹ میں بل پیش

جنگی اختیارات پر بحث جاری

امریکی سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ نے ایک مرتبہ پھر صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے آئینی کردار سے متعلق بحث کو نمایاں کردیا ہے۔ قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے فوجی تنازع میں امریکی عوام اور کانگریس کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

دوسری جانب قرارداد کی مخالفت کرنے والے ارکان کا مؤقف ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں امریکی صدر کو قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق فوری فیصلے کرنے کے لیے مناسب اختیارات حاصل ہونے چاہییں۔

سینیٹ میں قرارداد مسترد ہونے کے باوجود ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور صدر کے جنگی اختیارات کا معاملہ امریکی سیاست میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔ آنے والے دنوں میں کانگریس میں ایران سے متعلق مزید قراردادیں اور اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔

editor

Related Articles