وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور گوادر کو صوبوں کا حصہ بنانے کے بجائے براہ راست وفاق کے زیر انتظام رکھنے پر غور کیا جانا چاہیے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ پہلے بھی زیر بحث آ چکا ہے۔ جدید جمہوری نظام میں مضبوط بلدیاتی حکومتیں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ملک میں نچلی سطح تک اختیارات اور وسائل کی منتقلی کے بغیر عوامی مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں کیے جا سکتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کراچی میں گراس روٹ لیول پر بلدیاتی نظام مربوط شکل میں موجود نہیں ہے۔ بلدیاتی نظام کی ساخت اور اس کے دائرہ کار پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اگر وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو عوام کو بہتر انداز میں سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی اس وقت بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوری نظام کی بنیاد مکمل نہیں ہو سکتی۔ مقامی حکومتوں کو فعال بنانا ضروری ہے تاکہ شہریوں کے روزمرہ مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کا کوئی بھی صوبہ محض صوبائیت یا لسانی بنیاد پر تشکیل نہیں دیا جانا چاہیے۔ صوبوں کے اندر انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہییں تاکہ انتظامی معاملات کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان کو کسی دوسرے شہر یا علاقے کے ساتھ انتظامی یونٹ کی شکل میں منسلک کیا جا سکتا ہے۔ اگر لسانی بنیاد پر نئے صوبے بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس سے ملک میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے اور کئی نئے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ان کی رائے کسی ذاتی مفاد یا سیاسی نقطہ نظر کی بنیاد پر نہیں ہے۔ وہ ایسے انتظامی ڈھانچے کی بات کر رہے ہیں جو پاکستان کی موجودہ ضروریات کے ساتھ ساتھ آنے والے کئی عشروں کی ضروریات کو بھی پورا کر سکے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ انتظامی تقسیم کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور ریاستی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جدید جمہوریت میں مقامی حکومتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر بلدیاتی اداروں کو مناسب اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر بھی کام کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسا بلدیاتی نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے شہری اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بار بار صوبائی یا وفاقی دارالحکومت کا رخ نہ کریں۔ سڑکوں کی تعمیر۔ صفائی ستھرائی۔ پانی کی فراہمی۔ نکاسی آب اور دیگر شہری سہولیات کی ذمہ داری مؤثر مقامی حکومتوں کے ذریعے بہتر انداز میں پوری کی جا سکتی ہے۔