پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سعودی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کردی ہے۔ سعودی فالکن وژن گروپ نے پاکستان میں 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کے امکانات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے سعودی سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ سے سعودی سرمایہ کاروں کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور مختلف شعبوں میں ممکنہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وفد نے پاکستان میں انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔
ملاقات کے دوران سعودی فالکن وژن گروپ کی جانب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کے امکانات کا اظہار کیا گیا۔ سعودی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور مختلف منصوبوں میں شراکت کے حوالے سے بھی اپنی دلچسپی سے آگاہ کیا۔ اس پیش رفت کو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی سرمایہ کاروں نے ملاقات کے دوران چکوال میں جدید شاپنگ مال کے قیام کے منصوبے کے حوالے سے بھی وفاقی وزیر کو بریفنگ دی۔ منصوبے سے متعلق مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی اور پاکستان میں بڑے کاروباری اور تجارتی منصوبوں کے لیے موجود مواقع کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے سعودی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد جاری ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کاروباری معاملات میں سہولت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
قیصر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کے لیے بزنس سہولت مراکز کے ذریعے ون ونڈو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس نظام کا مقصد سرمایہ کاری سے متعلق مختلف سرکاری معاملات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر آسان بنانا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو غیر ضروری تاخیر اور پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وفاقی وزیر نے سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں حاصل ہونے والے منافع کی سو فیصد ترسیل کی اجازت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کی مکمل ترسیل کی اجازت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے اہم اقدام ہے۔
سعودی سرمایہ کاروں کی جانب سے 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی اور تجارتی تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے جبکہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے امکانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ممکنہ سعودی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔
چکوال میں جدید شاپنگ مال کے مجوزہ منصوبے سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی سرمایہ کار پاکستان کے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں بھی کاروباری مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایسے منصوبوں سے مقامی معیشت کو متحرک کرنے کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت اور منافع کی سو فیصد ترسیل کی اجازت جیسے اقدامات غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم سعودی فالکن وژن گروپ کی جانب سے ظاہر کی گئی 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری فی الحال دلچسپی اور ممکنہ سرمایہ کاری کا اعلان ہے۔ اس رقم کی حقیقی سرمایہ کاری منصوبوں اور معاہدوں کی تکمیل کے مختلف مراحل کے بعد سامنے آئے گی۔
حکام کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار طویل المدتی بنیادوں پر کاروباری منصوبے شروع کرسکیں۔ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور آنے والے دنوں میں ان منصوبوں کے حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔