بجلی تقسیم کار کمپنی کے مطابق AMI یا اسمارٹ میٹرز روایتی بجلی میٹروں کی جگہ لے رہے ہیں ان میٹروں کی مدد سے بجلی کے استعمال کی ریڈنگ خودکار طریقے سے کنٹرول سینٹر تک پہنچتی ہے جس سے میٹر ریڈنگ میں انسانی مداخلت کم ہوتی ہے اوور بلنگ اور غلط ریڈنگ کے امکانات میں کمی آتی ہے جبکہ بجلی چوری اور میٹر ٹیمپرنگ کی فوری نشاندہی بھی ممکن ہو جاتی ہے۔
آئیسکو کے جاری منصوبے کے تحت اب تک تقریباً 12 لاکھ (1.2 ملین) اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ ادارہ مرحلہ وار اپنے تمام صارفین کو اس جدید نظام پر منتقل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے حکومتی بریفنگ کے مطابق ملک بھر میں بھی روایتی بجلی میٹروں کو تبدیل کرکے دسمبر 2026 تک AMI اسمارٹ میٹرز لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آئیسکو ذرائع کے مطابق اگلے مرحلے میں مزید تقریباً 30 لاکھ میٹرز خرید کر نصب کیے جائیں گے جس کے بعد کمپنی کے تقریباً تمام صارفین اسمارٹ میٹرنگ نظام سے منسلک ہو جائیں گے۔ منصوبے کا مقصد بجلی کی چوری لائن لاسز اور اوور بلنگ میں کمی لانا بلنگ کے نظام کو شفاف بنانا اور بجلی کی تقسیم کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے
توانائی ڈویژن کے مطابق حکومت کا مجموعی ہدف یہ ہے کہ دسمبر 2026 تک ملک بھر میں روایتی بجلی میٹروں کی جگہ مرحلہ وار AMI اسمارٹ میٹرز نصب کیے جائیں۔ اس منصوبے کے تحت تمام ڈسکوز کو اسمارٹ میٹرنگ، خودکار بلنگ، ریموٹ کنکشن و ڈس کنکشن، بجلی چوری کی نگرانی اور ڈیجیٹل گرڈ مینجمنٹ کے نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس وقت آئیسکو تقریباً 12 لاکھ اسمارٹ میٹرز نصب کرکے نمایاں پیش رفت حاصل کر چکی ہے، جبکہ دیگر ڈسکوز میں بھی لاکھوں صارفین کو مرحلہ وار اس جدید نظام پر منتقل کیا جا رہا ہ
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اسمارٹ میٹرنگ منصوبے پر کئی برسوں سے مرحلہ وار کام جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں کمرشل، صنعتی اور ہائی لاس فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز نصب کیے گئے، جبکہ اب رہائشی صارفین تک اس نظام کو توسیع دینے کا منصوبہ جاری ہے۔ لیسکو کو حکومت کی اسمارٹ گرڈ اپ گریڈیشن حکمت عملی میں ترجیحی کمپنیوں میں شامل کیا گیا تھا۔
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی AMI اور ڈیجیٹل میٹرنگ نظام پر کام شروع کر رکھا ہے۔ فیسکو میں بڑے صنعتی صارفین، تھری فیز کنکشنز اور منتخب شہری علاقوں میں اسمارٹ میٹرنگ کی تنصیب کی گئی ہے، جبکہ کمپنی مرحلہ وار اپنے نیٹ ورک کو مکمل AMI نظام سے جوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فیسکو کو بھی سسٹم اپ گریڈیشن کے منصوبوں میں اہم ترجیح حاصل رہی ہے۔
گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی میں اسمارٹ میٹرنگ کا دائرہ کار ابھی محدود ہے، تاہم ہائی لاس فیڈرز، کمرشل صارفین اور حساس علاقوں میں جدید میٹرز کی تنصیب جاری ہے۔ کمپنی نیٹ ورک آٹومیشن اور ریموٹ میٹر ریڈنگ کے نظام کو وسعت دینے پر کام کر رہی ہے۔
ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے بھی مرحلہ وار اسمارٹ میٹرنگ پروگرام شروع کیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے بڑے شہروں میں منتخب صارفین، صنعتی یونٹس اور ہائی ویلیو کنکشنز پر AMI میٹرز نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلوں میں رہائشی صارفین کو بھی شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اسمارٹ میٹرنگ منصوبہ ابتدائی سے درمیانی مرحلے میں ہے۔ کمپنی نے بجلی چوری اور لائن لاسز میں کمی کے لیے منتخب فیڈرز اور بڑے صارفین پر AMI میٹرز کی تنصیب شروع کی ہے۔
سکھر الیکٹرک پاور کمپنی میں بھی اسمارٹ میٹرنگ کا عمل محدود پیمانے پر جاری ہے۔ کمپنی خاص طور پر ایسے علاقوں پر توجہ دے رہی ہے جہاں بجلی چوری اور ریکوری کے مسائل زیادہ ہیں، تاکہ ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے نقصانات کم کیے جا سکیں۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اسمارٹ میٹرنگ منصوبہ مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں بڑے کمرشل اور صنعتی صارفین کو AMI نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں رہائشی صارفین کے لیے بھی توسیعی منصوبہ شامل ہے۔
کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اسمارٹ میٹرنگ کی رفتار نسبتاً سست رہی ہے، تاہم ہائی لاس فیڈرز، سرکاری اداروں اور بڑے صارفین پر جدید میٹرز کی تنصیب اور ریموٹ مانیٹرنگ سسٹم پر کام جاری ہے