وفاقی حکومت نے عوام کو مزید ریلیف فراہم کرتے ہوئے مٹی کے تیل کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمتوں کا اطلاق 5 اگست سے ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں صارفین کو پہلے کے مقابلے میں کم نرخ پر مٹی کا تیل دستیاب ہوگا۔ مٹی کا تیل خصوصاً ان علاقوں میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں قدرتی گیس کی سہولت موجود نہیں یا محدود ہے جبکہ کئی دیہی اور پہاڑی علاقوں میں یہ ایندھن روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی سے ایسے گھرانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا جو کھانا پکانے، حرارت حاصل کرنے یا دیگر گھریلو ضروریات کے لیے اس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ اس اقدام سے ان علاقوں کے رہائشیوں کے ماہانہ اخراجات میں بھی کسی حد تک کمی آنے کی توقع ہے۔
حکومت وقتاً فوقتاً عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتی ہے۔ حالیہ کمی کو بھی انہی عوامل کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں مٹی کے تیل کے علاوہ دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔ تاہم اس اعلامیے میں مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی کو نمایاں کرتے ہوئے اس کی نئی قیمت 297 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اسی قیمتوں کے جائزے کے دوران حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی کا اعلان کیا ہے جن کی تفصیلات الگ نوٹیفکیشن میں جاری کی گئی ہیں۔