بلوچستان سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ ملائکہ خلجی نے عزم، ہمت اور مستقل مزاجی کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے 6 ہزار 40 میٹر بلند خوشل گنگ چوٹی سر کر لی۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ بلوچستان کی پہلی کم عمر لڑکی بن گئی ہیں جس نے اس بلند چوٹی کو کامیابی سے سر کیا۔
بچپن سے کھیلوں کا شوق، کوہ پیمائی کا انتخاب
ملائکہ خلجی نے کہا کہ انہیں بچپن ہی سے کھیلوں میں گہری دلچسپی تھی لیکن مناسب مواقع اور سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ بعد ازاں جب کوہ پیمائی کے میدان میں قدم رکھنے کا موقع ملا تو انہوں نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسکالرشپ پر تربیت اور پیشہ ورانہ تیاری
انہوں نے کہا کہ الپائن کلب آف پاکستان اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ فار ٹورازم، ہاسپیٹیلٹی اینڈ کلچر مینجمنٹ نے انہیں اسکالرشپ کے تحت تربیت فراہم کی جس کے بعد انہوں نے باقاعدہ کوہ پیمائی کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی اور مختلف مراحل سے گزر کر اس مہم کے لیے خود کو تیار کیا۔
ملائکہ کے مطابق ابتدا میں ان کے اہل خانہ اس مہم کے حق میں نہیں تھے کیونکہ ان کا تعلق ایسے معاشرے سے ہے جہاں لڑکیوں کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیوں کو آسان نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم ان کے بھائی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، والدین کو قائل کیا اور یوں انہیں اپنی منزل کی جانب بڑھنے کا موقع ملا۔
تاریخ رقم کرنے والی ملائیکہ نے بتایا کہ خوشل گنگ کی مہم سے قبل کوئٹہ کے قریبی پہاڑوں پر بنیادی مشق کی تھی لیکن تکنیکی کوہ پیمائی کا تجربہ محدود تھا۔ اصل مہم کے دوران پہلی مرتبہ جدید کوہ پیمائی کے آلات، برفانی راستوں اور سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔
رات تین بجے آخری چڑھائی، ہمت نے کامیابی دلائی
ملائکہ خلجی نے کہا کہ مہم کا سب سے کٹھن مرحلہ رات تین بجے چوٹی کی جانب آخری چڑھائی تھی جب انہیں تقریباً سیدھی برفانی دیوار پر چڑھنا پڑا۔ شدید تھکن کے باعث ایک موقع پر انہوں نے واپسی کا بھی سوچا لیکن ان کے گائیڈ نے انہیں حوصلہ دیا اور یاد دلایا کہ وہ بلوچستان کی پہلی لڑکی بن سکتی ہیں جو یہ چوٹی سر کرے گی۔ اس حوصلہ افزائی نے انہیں نئی توانائی دی اور انہوں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے کامیابی کے ساتھ چوٹی سر کر لی۔
ملائکہ خلجی نے اپنی کامیابی کو پاکستان کی تمام لڑکیوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ اگر عزم مضبوط ہو تو کوئی بھی خواب ناممکن نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں مزید بلند چوٹیوں کو سر کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی ہیں اور نوجوان لڑکیوں کو بھی اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت اور ہمت سے آگے بڑھنے کا پیغام دیتی ہیں۔