وفاقی حکومت نے پاکستان کے گیس سیکٹر کی تنظیم نو کا منصوبہ دوبارہ فعال کرتے ہوئے ملک کی دو بڑی سرکاری گیس کمپنیوں، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کو پانچ الگ الگ کمپنیوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
منصوبے کے تحت دونوں اداروں کو ایک قومی گیس ٹرانسمیشن کمپنی اور چار صوبائی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں تقسیم کیا جائے گا حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے گیس کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
اصلاحات کا منصوبہ
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے درمیان ہونے والی ملاقات میں گیس سیکٹر کی مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لیا گیا،سرکاری اعلامیے کے مطابق اصلاحات کے تحت گیس ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور توانائی کے کاروبار کو الگ کیا جائے گا، جبکہ گیس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھائے جائیں گے۔
روڈ میپ تیار
پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ اصلاحاتی روڈ میپ کو اگست کے اختتام تک مکمل کرکے وزیراعظم کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے،منظوری کے بعد منصوبے پر مرحلہ وار عمل درآمد شروع ہوگا۔
حکومت غیر بنڈلنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک ٹرانزیکشن ایڈوائزر بھی مقرر کرے گی، جس کی مالی معاونت ورلڈ بینک کرے گا یا پھر اس کی لاگت متعلقہ گیس کمپنیوں کے ذریعے برداشت کی جائے گی۔
نئی کمپنی
مجوزہ منصوبے کے مطابق ایک قومی گیس ٹرانسمیشن کمپنی قائم کی جائے گی جو دونوں موجودہ اداروں کے ٹرانسمیشن اثاثے سنبھالے گی اور گیس تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مشترکہ نیٹ ورک فراہم کرے گی۔
یہ کمپنی خود گیس کی خرید و فروخت نہیں کرے گی بلکہ مقامی گیس اور درآمدی ایل این جی کی ترسیل کرے گی جبکہ سپلائرز اور خریداروں سے وہیلنگ چارجز وصول کرے گی۔
صوبائی تقسیم
منصوبے کے تحت چار صوبائی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیاں قائم کی جائیں گی جو اپنے اپنے علاقوں میں گیس فراہمی اور نیٹ ورک کا انتظام سنبھالیں گی،ان کمپنیوں کی تشکیل آبادی، گیس کی طلب، نیٹ ورک کی وسعت، آپریشنل ضروریات اور کارکردگی جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔
قیمتوں کا نظام
اصلاحاتی منصوبے میں مختلف علاقوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے نئے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کی تجویز بھی شامل ہے،حکام کے مطابق حتمی ماڈل کی منظوری سے قبل صوبائی حکومتوں سے مشاورت اور مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کی منظوری ضروری ہوگی۔
مخالفت برقرار
گیس سیکٹر کی تنظیم نو کا منصوبہ ماضی میں بھی مخالفت کا سامنا کر چکا ہے، کے پی ایم جی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس کی مالی اور تکنیکی عملداری پر سوالات اٹھائے تھے،ان خدشات کے باعث 2020 میں یہ منصوبہ روک دیا گیا تھا، اب دوبارہ بحالی کے باوجود SNGPL، SSGCL اور ان کے شیئر ہولڈرز کو منصوبے پر تحفظات ہیں۔
بعض حکام کا مؤقف ہے کہ تقسیم سے قبل ٹرانزیکشن ایڈوائزر کو منصوبے کی مکمل فزیبلٹی اور مالی و تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔