امریکی ریاست نیبراسکا میں واقع چھوٹا سا قصبہ مونوی دنیا کے منفرد ترین قصبوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہاں صرف ایک ہی رہائشی موجود ہیں، جو اکیلے ہی پورے قصبے کا انتظام سنبھالتی ہیں۔
اس قصبے کی واحد رہائشی خاتون نہ صرف مونوی کی میئر ہیں بلکہ کلرک، بار کی منتظم اور قصبے کی واحد ٹیکس دہندہ بھی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قصبے کا قانونی درجہ برقرار رکھنے کے لیے وہ ہر سال بلدیاتی انتخابات میں خود ہی ووٹ ڈالتی ہیں اور خود ہی میئر منتخب ہو جاتی ہیں۔
وہ اپنے زیر انتظام مقامی بار سے ٹیکس وصول کرتی ہیں اور شراب فروخت کرنے اور دیگر کاروباری سرگرمیوں سے متعلق لائسنسوں پر بطور میئر خود ہی دستخط کرتی ہیں۔ مونوی کبھی ایک آباد قصبہ تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ آبادی کم ہوتی گئی اور آخرکار یہاں صرف ایک ہی رہائشی رہ گئیں۔
ماہرین کے مطابق مونوی صرف ایک دلچسپ قصہ نہیں بلکہ امریکا کے دیہی علاقوں میں آبادی کی مسلسل کمی اور چھوٹے قصبوں کے ختم ہونے کی ایک واضح مثال بھی ہے۔اگرچہ اس قصبے میں زندگی انتہائی پرسکون اور تنہائی پر مبنی ہے، لیکن اس کی واحد رہائشی آج بھی اسے آباد رکھنے اور اس کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔
مونوی کی یہ منفرد کہانی دنیا بھر میں لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ہر سال متعدد سیاح اس غیر معمولی قصبے کو دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔