ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مسلم دنیا پر اتحاد اور خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان متحد ہو کر کھڑے ہوں تو بیرونی عناصر کی جانب سے درپیش ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج نے دنیا کی مہنگی ترین فوجی طاقت کے مقابلے میں اپنی تیاری، صلاحیت اور قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ مسلم ممالک کیلئے اتحاد اور باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان صرف دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور وسائل پر بھروسہ کریں اور متحد ہو کر چیلنجز کا مقابلہ کریں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مشکل حالات میں اپنی دفاعی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی افواج نے دنیا کی مہنگی ترین فوجی طاقت کے سامنے اپنی تیاری اور دفاعی استعداد ثابت کی ہے۔
انہوں نے مسلم دنیا کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ سوچ، باہمی تعاون اور خود انحصاری کے ذریعے بیرونی دباؤ اور خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی دفاعی اور جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگی تیاری صرف نئے ہتھیار حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں موجودہ دفاعی نظام کی بحالی، جدید خطوط پر اس کی تجدید، نئے آلات کی شمولیت، مقامی دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور فوجی اہلکاروں کے حوصلے بلند رکھنا بھی شامل ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا کے مطابق موجودہ صورتحال میں دفاعی تیاری کا ایک اہم حصہ پہلے سے موجود یا متاثرہ دفاعی نظام کی مرمت اور جدید کاری ہے۔ ایرانی فوج اپنی انجینئرنگ اور تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دفاعی سازوسامان کی ازسرنو تیاری اور جدید تقاضوں کے مطابق بہتری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے دفاعی آلات کی شمولیت کے بعد ایرانی فوج نے اپنی جنگی استعداد کو موجودہ ضروریات کے مطابق مزید مؤثر انداز میں منظم کیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے فضائی دفاع کو ملکی دفاعی حکمت عملی کی اہم ترین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف نوعیت کے خطرات کے باعث فضائی دفاع ملکی فضائی حدود اور اہم تنصیبات کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
ترجمان ایرانی فوج نے کہا ہے کہ دفاعی صلاحیت صرف جدید ہتھیاروں کی موجودگی سے نہیں بنتی بلکہ فوجی اہلکاروں کا جذبہ، نظم و ضبط، ذہنی تیاری اور بلند حوصلہ بھی جنگی طاقت کا بنیادی حصہ ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوجی جوان موجودہ صورتحال میں جذبۂ ایثار کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کیلئے پُرعزم ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ایران کی فوج ماضی کی جنگوں میں مقامی صلاحیتوں اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی دفاعی استعداد ثابت کرچکی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی فوج اپنی جنگی تیاری اور دفاعی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کررہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے مسلم ممالک کے اتحاد اور خود انحصاری پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔ ایرانی حکام مسلسل اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مقامی وسائل پر انحصار کو اہم قرار دے رہے ہیں۔