پیٹرول کی اصل قیمت کتنی؟ فی لیٹر 130 روپے کہاں جا رہے ؟ تفصیلات جانیے

پیٹرول کی اصل قیمت کتنی؟ فی لیٹر 130 روپے کہاں جا رہے ؟ تفصیلات جانیے

ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل استعمال کرنے والے شہریوں کو عالمی اور بنیادی لاگت کے مقابلے میں نمایاں اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے دستاویزات کے مطابق پٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ صارفین کو یہ 327 روپے 62 پیسے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

دستاویزات کے مطابق پٹرول کی بنیادی لاگت اور موجودہ فروخت قیمت کے درمیان 129 روپے 93 پیسے کا فرق بنتا ہے اس فرق میں پٹرولیم لیوی کلائمٹ سپورٹ لیوی کسٹمز ڈیوٹی فریٹ مارجن آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن سمیت مختلف چارجز شامل ہیں۔

پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد ہے جبکہ 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پٹرول پر 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی شامل ہے۔

دستاویز کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 7 روپے 48 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن بھی شامل ہے۔

ان تمام اجزا کی وجہ سے صارفین کو بنیادی لاگت سے کہیں زیادہ قیمت پر پٹرول خریدنا پڑتا ہے موجودہ قیمت میں سب سے بڑا اضافی جزو پٹرولیم لیوی ہے، جو فی لیٹر 80 روپے مقرر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین کیلئے بڑا جھٹکا ، ایک دن باقی

ڈیزل کی قیمت میں بھی لیوی اور دیگر چارجز شامل

ہائی اسپیڈ ڈیزل کے حوالے سے دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اس کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے فی لیٹر بنتی ہے جبکہ صارفین کے لیے موجودہ قیمت 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔

یعنی ڈیزل کی بنیادی لاگت اور صارف کو فروخت کی قیمت کے درمیان 116 روپے 10 پیسے فی لیٹر کا فرق ہے۔ اس اضافی رقم میں پٹرولیم لیوی، کلائمٹ سپورٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ اور دیگر مارجنز شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 74 روپے 28 پیسے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد ہے جبکہ 5 روپے فی لیٹر کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔

پٹرول اور ڈیزل میں بنیادی فرق کیا ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق پٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے ہے اور موجودہ فروخت قیمت 327 روپے 62 پیسے ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے اور فروخت قیمت 380 روپے 86 پیسے مقرر ہے۔

اس طرح پٹرول کے مقابلے میں ڈیزل کی بنیادی لاگت زیادہ ہے تاہم دونوں مصنوعات کی حتمی قیمت میں مختلف سرکاری لیویز کسٹمز ڈیوٹی فریٹ چارجز اور سپلائی چین سے متعلق مارجنز شامل ہونے کے بعد صارف کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

صارف کے ایک لیٹر پر کتنا بوجھ؟

دستاویزات کے مطابق پٹرول کی بنیادی لاگت اور موجودہ قیمت میں تقریباً 130 روپے کا اضافی بوجھ مختلف لیویز، ڈیوٹیز اور مارجنز کی صورت میں شامل ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت اور موجودہ قیمت میں تقریباً 116 روپے 10 پیسے کا فرق موجود ہے۔

پٹرول میں سب سے نمایاں رقم پٹرولیم لیوی کی ہے جبکہ ڈیزل میں بھی پٹرولیم لیوی مجموعی اضافی رقم کا بڑا حصہ بنتی ہے اس کے ساتھ کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ اور مارکیٹنگ و ڈیلرز مارجن بھی حتمی قیمت میں شامل کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول پمپس پر پیٹرول ملے گا یا نہیں؟ آج بڑا فیصلہ ہوگا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی خام تیل کے نرخ درآمدی لاگت روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ اور حکومت کی جانب سے عائد مختلف لیویز و دیگر چارجز اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم یا زیادہ ہونے کے ساتھ مقامی قیمت پر دیگر اجزا کا اثر بھی برقرار رہتا ہے۔

یوں صارف کے لیے پٹرول یا ڈیزل کی قیمت صرف اس کی بنیادی لاگت تک محدود نہیں رہتی بلکہ مختلف سرکاری چارجز اور سپلائی چین کے مارجنز شامل ہونے کے بعد حتمی قیمت سامنے آتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles