ملک میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آگئی آئل ٹینکرز کانٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے الٹی میٹم کے بعد وفاقی وزیر پیٹرولیم نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے رابطہ کرلیا ہے جس کے بعد آج 10 اگست کو آئل ٹینکرز کے وفد کی وفاقی وزیر پیٹرولیم سے اہم ملاقات ہوگی۔
ملاقات میں آئل ٹینکرز مالکان کے مطالبات، پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور ملک بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ مذاکرات کو اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ آئل ٹینکرز کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
مطالبات منظوری کیے جانے کی صورت میں وزیر پیٹرولیم موجودہ صورتحال سے متعلق اہم اعلان کریں گے اور میڈیا کو بریف کیا جائے گا اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور پیٹرول پمپس پر فراہمی کے خدشات ختم ہوجائیں گے جس سے حکومت ایک بڑے مسٗلہ سے باہر نکل آے گی
آئل ٹینکرز کانٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عابد اللہ آفریدی کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ملاقات آج ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ایسوسی ایشن کے مطالبات پیش کیے جائیں گے اور حکومت کے مؤقف پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آئل ٹینکرز مالکان کا مؤقف ہے کہ کمرشل لوڈنگ کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ آئل ٹرانسپورٹ سے وابستہ کاروبار کو درپیش مسائل کم ہوسکیں۔
آئل ٹینکرز مالکان نے گزشتہ تین سال کے دوران ہونے والی مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت، اخراجات اور مہنگائی کے باعث موجودہ کرایوں میں ٹینکرز چلانا مشکل ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آج ہونے والے مذاکرات میں حکومت کی جانب سے ان مطالبات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ اس بات پر بھی توجہ دی جائے گی کہ ملک بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا نظام کسی بھی صورت متاثر نہ ہو۔
ایسوسی ایشن کے صدر عابد اللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے آئل ٹینکرز مالکان کے مطالبات تسلیم کرلیے تو ملاقات کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور بلاتعطل فراہمی کا سلسلہ جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی متوقع ہے۔
تاہم اگر مذاکرات میں مطالبات پر اتفاق نہ ہوسکا تو آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے اعلان کیا جائے گا۔ اس صورت میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے حوالے سے پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کا انحصار ایسوسی ایشن کے آئندہ فیصلے پر ہوگا۔
مذاکرات کی کامیابی اس لیے بھی اہم قرار دی جارہی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی کا براہ راست تعلق ملک میں ٹرانسپورٹ، صنعت، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کی ضروریات سے ہے۔ حکومت اور آئل ٹینکرز مالکان کے درمیان آج ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں آئل سپلائی کے مستقبل کے حوالے سے اہم صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔