پہلی بار اے آئی سے نئے وائرس تیار، طبی ماہرین کے خدشات بھی سامنے آگئے

پہلی بار اے آئی سے نئے وائرس تیار، طبی ماہرین  کے خدشات بھی سامنے آگئے

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے پہلی بار نئے وائرس تیار کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد ماہرین نے بائیو سیفٹی اور بائیو سیکیورٹی سے متعلق ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نظام استعمال کرتے ہوئے ایسے بیکٹیریوفیجز تیار کیے جو مخصوص بیکٹیریا کو متاثر کرکے انہیں ختم کرسکتے ہیں۔

محققین کے مطابق اے آئی کی مدد سے تیار کیے گئے ان نئے وائرسوں میں ایسے ای کولی بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کی صلاحیت بھی دیکھی گئی جن کے خلاف قدرتی طور پر موجود وائرس مؤثر ثابت نہیں ہوتے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں:گوگل فوٹوز میں بڑی تبدیلی، تصاویر کے خودکار بیک اپ کی سہولت ختم

تاہم جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی سے وابستہ ماہرین ٹام انگلزبی اور مورٹز ہانکے نے اس پیش رفت کو بائیو سیفٹی کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنریٹو اے آئی اب وائرل جینوم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے لیے ضروری نگرانی، قوانین اور حفاظتی نظام ابھی اس رفتار سے آگے نہیں بڑھے جس رفتار سے اے آئی کی صلاحیتیں ترقی کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:30 ہزار افراد کی جان لینے والا آتش فشاں دوبارہ حرکت میں آگیا

تحقیق میں شامل سائنس دانوں نے بھی ممکنہ خطرات کو تسلیم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی تحقیق کرنے والے ماہرین کو منصوبے کے آغاز سے ہی بائیو سیفٹی اور بائیو سیکیورٹی کے ماہرین سے مسلسل مشاورت کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اے آئی کی مدد سے حیاتیاتی تحقیق میں ہونے والی پیش رفت بیماریوں کے علاج اور نئی طبی تکنیکوں کے لیے امکانات پیدا کرسکتی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے اور ممکنہ بائیو سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

editor

Related Articles